اصحاب احمد (جلد 5) — Page 356
۳۶۱ دل میں ایک فخر سا پیدا ہو گیا کہ میرے ضلع و تحصیل کے ایک عالم بے مثال اور صحابی کو جس نے خدا کے نبی کو دیکھا ہوا ہے۔میں نے اس کو تو دیکھ لیا ہے۔الحمد الله ثم الحمد للہ۔آپ کی عبادت دیکھ کر شرمندہ ہوتا کہ ایسے بزرگوں کے نور سے کامل استفادہ میرے لئے ممکن نہیں اگر کسی نبی کے وقت میں ہوتا تو ان کے نور سے استفادہ کی مجھے کہاں طاقت ہوتی۔آپ نے اس عرصہ میں مجھے بہائیت کی واقفیت کے ساتھ ساتھ مدرسہ نعمانیہ لاہور۔دیوبند۔ایبٹ آباد۔پشاور۔راولپنڈی۔مظفر آباد۔گھوڑی۔گھنڈی۔دانتہ اور مانسہرہ کے واقعات سنائے جو بے حد ایمان افروز تھے۔میں خصوصاً اس امر سے متاثر ہوا کہ آپ مجھے نہایت شوق سے اور زور لگا کر اور محنت کر کے نہایت پیرانہ سالی میں پڑھاتے تھے۔میرا دل تڑپ اٹھا۔میں نے اسی اثنا میں ایک خواب دیکھا کہ کوہ مری پر حضرت مریم علیہا السلام کی قبر پر مولوی صاحب دوڑ کر جانب مغرب گئے ہیں اور میں نے کوشش کی ہے کہ ان کو پکڑوں مگر نہ پکڑ سکا۔یہ خواب سن کر فرمانے لگے۔سید سرور شاہ سے مراد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں اور میرا وجود بھی ہوسکتا ہے۔کوشش کرو کہ اس وقت میں استفادہ کرو۔ورنہ پھر یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا۔جو کہ بالکل صحیح تعبیر نکلی۔ایک بار میں نے عرض کی کہ آپ کی ٹانگیں دباتے وقت پتھر کی طرح سخت معلوم ہوتی ہیں لیکن آپ کی آواز دبی ہوئی کیوں ہے۔فرمایا غلطی سے بھلاوہ بنا کر کھا لیا۔جو بعد ازاں معلوم ہوا کچارہ گیا ہے۔اس کا زہر غلبہ کر آیا۔بدن سوج گیا اور آواز بھی دب گئی۔آپ نے اپنے دونوں ہاتھ کی پشت پر مجھے ہاتھ پھیرنے کو کہا۔جب دیکھا تو واقعی جلد کھردری ہے۔اور سفید چھلکے اترتے ہیں۔فرمایا ابھی تک اس کا ہی یہ اثر ہے۔مرتے مرتے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی ماہ بعد شفا پا کر مجھے دوبارہ زندگی ملی۔ایک دفعہ نکاح کے فارم پر افسر صیغہ کے انگریزی کے دستخط دیکھ کر آپ سخت برہم ہوئے اور فرمایا کہ ہم نے عربی کی عزت کی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری عزت فرمائی۔گویا بلاضرورت اپنے مروجہ مذہبی رسم الخط کو ترک کر کے انگریزی رسم الخط کو اپنانے کو نہایت نا پسند فرمایا۔اپنے ہی امام نے جماعت کے سامنے مسجد میں اعلان نکاح کرنا تھا پھر یہ فارم ایک دفتر میں بھی جمع ہو جاتے تھے۔ایسا رجحان افسروں سے ماتحتوں میں اور پھر عوام میں جاری وساری ہو جاتا ہے جو نیچہ نقصان دہ ہے ایک بار خاکسار نے یہ کوشش کی کہ مجھے صدر انجمن مدرسہ حد یہ کا نا دار طالب علم ہونے کی وجہ سے وظیفہ دے۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( مہر سنگھ ) نے فرمایا میں بحیثیت ماسٹر ضمانت نہیں دے سکتا مگر سفارش کرتا ہوں فارم لے کر اس پر حضرت سید سرور شاہ صاحب کے بطور ضامن دستخط کر والاؤ۔میں نے عرض کی کہ حضرت مولوی صاحب مجھے جانتے نہیں اور نہ ہی میرا تعارف ان سے کسی نے کرایا ہے۔ماسٹر صاحب نے