اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 354 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 354

۳۵۹ ۶- از اخویم حکیم محمد سعید صاحب سابق مبلغ سرینگر ( کشمیر ) حال مقیم پونچھ۔مجھے بچپن ہی میں رؤیت الہی اور رویت نبی کا بے حد شوق تھا۔بسا اوقات میں رو بھی پڑتا۔جوانی سے قبل ہی رویا میں میری یہ خواہش پوری ہو گئی۔ایک عرصہ تک مجھے اس بارہ میں شدید حسرت تھی کہ کسی نبی کے زمانہ میں کیوں پیدا نہیں ہوا۔۱۹۴۵ء میں میں نے خواب میں ایک فرشتہ محلہ دارالفضل و دار البرکات کے درمیان میں معلق دیکھا۔اس نے ایک بڑا میز رکھ کر مجھے آواز دی کہ آ، اس جگہ اپنا شوق پورا کر اور کچھ نصیحت سن۔جیسے ماسٹر بورڈ پر سمجھاتے ہیں۔وہ مجھے وہاں لا کر اس طرح سمجھانے لگا۔کہا یہ جو سیح کا نزول من السماء لکھا ہے در اصل نزول علی الجبل مراد ہے۔اور میز پر ڈلہوزی کا پہاڑ رکھ کر دکھایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے۔پہاڑ پر پہاڑ جتنی ہستی بیٹھی دکھائی دی کہ یہ وہ مسیح موعود و مہدی ہے۔غور سے دیکھ لے۔میں نے دیکھا تو بول اٹھا۔یہ تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالی ) ہیں۔اس پر اس نے ایسے دلائل دئے کہ میرا سینہ کھل گیا۔وہ بیان کرنے لگا کہ ابن نبی ہے یہ خلیفتہ الرسول ہے۔یہ اپنی ولادت سے قبل موعود تھا۔اور اب مصلح موعود ہے۔یہ ابن مریم بھی ہے اور مسیح موعود بھی۔اور آخر پر یہ شعر بطور دلیل پڑھا ہے پس بخش رنگ دیگر شد عیاں زاد زاں مریم مسیح این زماں اور حضور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جاؤ یہ موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا۔اس کی بیعت کرو۔پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔اس دوران میں حضرت امیر المؤمنین سفید براق پگڑی پہنے برفانی پہاڑ پر پہاڑی وجود لئے فضا میں سمائے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور دوران تقریر حضور کے اس قسم کے جلوے سے میرے دل میں محبت کے دریا موجزن ہونے لگے اور اس وقت بھی وہ سفید چمکدار طرز ہ اور حضور کی گردن کاخم اور شملہ میرے دل پر گہرے طور پر گندہ ہے اور کیفیت نا قابل بیان ہے۔یہ خواب کیا تھی میرے لئے بجلی کا کڑ کا تھی۔میں بار بار آنکھیں بند کرتا کہ شاید پھر وہی نظارہ نظر آئے۔صبح حضور کی خدمت میں خواب لکھا اور تعبیر کے لئے عرض کی۔تیسرے روز مجھے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ اسیح نے بلوایا۔اور فرمایا کہ حضور نے آپ کو ڈلہوزی بلایا ہے۔اور ڈلہوزی آنے جانے کا خرچ پندرہ روپے دیا ہے۔چنانچہ حضور اقدس کے در دولت میں ڈلہوزی پہنچا۔مجھے کوٹھی کے سامنے خیمہ میں حضور ہاتھ