اصحاب احمد (جلد 5) — Page 12
۱۲ غیب سے مہمان نوازی اس گاؤں میں سید مولوی عبدالکریم شاہ ایک جید عالم تھے اور اس علاقہ میں بزرگ مشہور تھے۔سید صاحب نے سمجھا کہ یہ گھر سے بھاگ کر آئے ہیں۔چند دن تک کوئی آکر لے جائے گا اور حضرت مولوی صاحب کی طر ز بھی طالب علموں جیسی نہ تھی۔نہ پاس کوئی کتاب تھی بلکہ دونوں نے ہاتھوں میں غلیلیں اور تھیلے میں غلے ڈالے ہوئے تھے۔اس لئے سید صاحب نے سبق کے متعلق کہا کہ آپ چند دن ٹھہریں پھر دیکھا جائے گا۔حضرت مولوی صاحب نے سفر کے ارادہ پر دریافت کر کے معلوم کیا تھا کہ طالب علم ساگ اور کسی پر گزارہ کرتے ہیں جو لوگ انہیں دے دیتے ہیں اور آپ نے اپنے تئیں انہی پر گزارہ کرنے کے لئے آمادہ کر لیا تھا۔آپ نے یہاں دیکھا کہ طالب علموں کو مکئی اور کچھ روٹی کے ٹکڑے بھی لوگ دے دیتے ہیں۔گو پوری روٹی نہیں دیتے لیکن طالب علم مٹی کے لوٹوں کے پیندے تھالی اور پیالے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔مگر گھر درا ہونے کی وجہ سے ان پر کسی اور ساگ جم جاتے ہیں اور طالب علم انہیں صاف بھی نہیں کرتے اس لئے ان کی شکل نہایت گھناؤنی نظر آتی ہے۔آپ نے دل میں یہ ٹھانی کہ جب زیادہ بھوک لگے گی تو صرف خشک روٹی کھالوں گا اور ان برتنوں میں نہیں کھاؤں گا۔لیکن آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پہلا کھانے کا وقت آیا تو ان میں سے بڑی عمر کا طالب علم نہایت صاف برتنوں میں کھانا لایا۔پہلے تو آپ نے یہ سمجھ کر انکار کیا کہ یہ اس کا اپنا کھانا ہے لیکن اس کے اصرار پر آپ نے کھالیا اور جب تک آپ کا اپنا انتظام (جس کا آگے ذکر آئیگا ) نہ ہو گیا کھانا اسی طرح آتا رہا۔بعد میں اس طالب علم سے معلوم ہوا کہ وہ سب سے زیادہ آسودہ حال زمیندار کے ہاں بچوں کو پڑھاتا ہے۔اس نے سمجھا مولوی صاحب ہمارا کھانا نہیں کھا سکیں گے اس لئے اس گھر سے ایک آدمی کا کھانا طلب کیا اور گھر کی بوڑھی مالکہ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ مہمان میرا رشتہ دار نہیں بلکہ فلاں جگہ کے سید ہیں۔اس عورت نے کہا کہ سید محمد حسین شاہ کا بیٹا تو نہیں؟ جب معلوم ہوا کہ انہی کا بیٹا ہے تو بہت خوش ہوئی کہ اس کی والدہ میری محسنہ ہیں اور بتایا کہ ایک زمانہ میں سکھوں کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے اس کے نانا سلطان قطب الدین خاں یاغستان میں چلے آئے تھے۔انہیں کچھ خدمت گار عورتوں کی ضرورت تھی۔میرے والدین نے مجھے ان کے گھر چھوڑ دیا۔اس کی والدہ میری ہم عمر تھی اور مجھ سے بہت احسان سے پیش آتی تھیں۔بعد میں مجھے یہ علم ہوا کہ ان کی شادی سید محمد حسن شاہ صاحب سے ہو گئی تھی۔ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے آسودہ حال کر دیا اور میری تمنا تھی کہ اس خاندان کا کوئی فرد ملے تو خدمت کروں۔چنانچہ گھر سے خرچ آنے تک اسی بڑھیا کے ہاں سے آپ کا کھانا آتا رہا۔