اصحاب احمد (جلد 5) — Page 325
۳۲۹ آپ بہت مخیر انسان تھے۔غریبوں کو تعلیم دلانے کا آپ کو بہت شوق تھا اور آپ غریب بیماروں کا علاج بھی مفت کرتے تھے۔اس طرح شروع شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا ہمت والا اور عزت و شہرت رکھنے والا مددگار اور معاون عطا کر دیا جس کا ملنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے مشہور مصنفین اور علمی طبقہ میں ایک مشہور ومعروف انسان کو آپ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی تھے۔مولوی محمد احسن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سُناتے تھے کہ میں شروع میں سخت مخالف تھا اور مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی اور میں نواب صدیق حسن خاں کے ساتھ مل کر کام کیا کرتے تھے۔مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت تائید کرتے تھے۔ایک دن گفتگو کرتے کرتے یہ طے پایا کہ مرزا صاحب کی صداقت کے متعلق مباحثہ کیا جائے اور پہلے دونوں طرف کی کتابیں پڑھی جائیں اور ان کے دلائل معلوم کئے جائیں۔مولوی بشیر احمد صاحب نے کہا کہ ہم اُلٹ کتابیں پڑھیں۔مجھے چونکہ مرزا صاحب سے حسن ظنی ہے اس لئے میں آپ کی مخالف کتابیں پڑھوں گا اور آپ مرزا صاحب کے خلاف ہیں اس لئے آپ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھیں۔اس طرح ہمیں دونوں طرفوں کے دلائل سے واقفیت ہو جائے گی۔اس بحث کی تیاری کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنی شروع کیں اور مولوی بشیر احمد صاحب نے آپ کے خلاف جو کتب لکھی گئی تھیں ان کا مطالعہ شروع کیا۔چنانچہ جب مباحثہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی سختی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کرتے اور میں سختی سے آپ کی تائید کرتا۔آخر نوبت یہاں تک پہونچی کہ میں نے بیعت کر لی اور مولوی بشیر احمد صاحب بھو پالوی احمد بیت سے بہت دور چلے گئے۔تیسرے وجود اس زمانہ میں مولوی عبد الکریم صاحب تھے۔جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے انہوں نے حضرت خلیفہ اول سے کچھ علوم پڑھے تھے لیکن ان کی خداداد ذہانت اور ذکاوت ایسی تیز تھی کہ وہ مضامین اور معارف کو یوں پکڑتے تھے جیسے باز چڑیا کو پکڑتا ہے اور جس بات کو عام آدمی گھنٹہ بھر میں سمجھتا ہے وہ اسے سیکنڈوں میں سمجھ جاتے تھے۔وہ معارف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور وہ دعویٰ جو کہ آپ نے کچھ عرصہ کے بعد کرنا ہوتا تھا وہ کچھ دن پہلے ہی ان کی زبان پر جاری ہو جاتا تھا اور پھر بولنے میں انہیں ایسی مہارت تھی اور ان کے کلام میں اتنی فصاحت تھی کہ ان کی تقریر سننے والا آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔آواز اتنی سریلی تھی کہ جب آپ قرآت کرتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد گا ر ہے ہیں۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت سے اتنی شدید محبت تھی کہ اس محبت کا انداز ہ اس شخص کے علاوہ کوئی نہیں لگا سکتا جس نے آپ کو دیکھا اور آپ سے باتیں کی ہوں۔جب آپ حضرت