اصحاب احمد (جلد 5) — Page 296
جاؤں گا۔ایک جگہ اس نے مجھے دستخط کرنے کے لئے کہا۔میں نے وہاں دستخط کر دیے۔اس کے بعد اس نے دوسری جگہ بتائی میں نے پوچھا یہاں کیا لکھا ہوا ہے اس نے کہا کہ یہ لکھا ہوا ہے کہ گذشہ دو سال کی آمد کیا تھی۔اس کی تفصیل بتائی جائے۔میں نے ہاتھ جھٹک کر حقارت سے کہا کہ میں اس پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں گویا مجھے یہ بات بُری معلوم ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دفن کرنے کے لئے ان کی گذشتہ آمد کا ریکارڈ دفتر کو معلوم ہونا چاہئے۔پھر تیسری جگہ میری لڑکی نے اشارہ کیا اور میں نے وہاں دستخط کر دیئے۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آ گیا اس سے یہ مراد نہیں کہ مجھے نظر نہیں آتا تھا بلکہ جیسے ضعف کی وجہ سے چکر آ جاتا ہے اور حروف اچھی طرح نظر نہیں آتے وہ حالت تھی۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔غور کرنے سے میں نے سمجھا کہ یہ کسی ایسے مخلص صحابی یا کسی مقامی جماعت کے اہم انسان کی موت کی خبر دی گئی ہے کیونکہ خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص موصی ہے پس کسی ایسے ہی شخص کے متعلق یہ خواب ہو سکتی ہے جس کے لئے وصیت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ شخص اپنے اخلاص میں اتنا بڑھا ہوا ہے کہ باوجود موصی ہونے کے میں نے سمجھا کہ اس کے دفن ہونے کے لئے کسی رقم کی ادائیگی کی بحث فضول ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی خدمات سلسلہ کے لئے ایسی ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جانشین عام جماعت کے لحاظ سے یا پھر مقامی لحاظ سے سمجھا جا سکتا ہے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی وصیت کے گذشتہ دو سال کی ادائیگی کے متعلق کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے یا پیدا کیا جائے گا۔اتفاق کی بات ہے کہ انہی دنوں سید بشارت احمد صاحب حیدر آبادوالوں کی بیماری کی تاریں آ رہی تھیں چونکہ وہ بھی حیدر آباد کی جماعت میں خاص پوزیشن رکھتے ہیں بڑی دیر سے ان کی خدمت کرنے کی توفیق ملی ہوئی ہے دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ خواب ان کی نسبت نہ ہو اور ان کے لئے خاص طور پر دعا کرنے کی توفیق مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کر دیا چونکہ انذاری خوا ہیں بعض دفعہ مل بھی جاتی ہیں ممکن ہے وہی مراد ہوں اور خواب کو اللہ تعالی نے ٹلا دیا ہو۔ممکن ہے کوئی اور دوست ہوں جو کہ جماعتی طور پر یا لوکل طور پر ایسی اہمیت رکھتے ہوں کہ اپنے رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہلانے کے مستحق ہوں۔اگر یہ خواب ٹل نہیں گئی تو بھی اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کو ٹلا دے کیونکہ جماعت کو اس وقت ایک ایک کارکن کی ضرورت ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ انہی ایام میں متعدد دوستوں کی خوا ہیں ایک ہی ڈاک سے نکلیں جن میں انہوں نے