اصحاب احمد (جلد 5) — Page 284
۲۸۸ کے ذریعہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) سے کہا کہ حضرت خلیفہ اول کو یہ پیغام دیں کہ حضور اب بالکل غم نہ کریں اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کر دیا ہے کہ آپ کی دعاؤں سے سب کا اس امر پر اتفاق ہو گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت اقدس کی جانشین اور سب پر حاکم ہے اور خلیفہ اس کا بنایا ہوا اور اس کے ماتحت ہے۔حضرت میاں صاحب بھلا یہ پیغام کب پہنچا سکتے تھے۔ڈاکٹر صاحب پہنچے، غرض یہ تھی کہ نماز والا اثر تو بعد کی خواجہ صاحب کی تقریر سے مٹ گیا اور یہ امر یقینی ہے کہ حضرت خلیفہ اول کو ڈرا کر کہ گویا ساری قوم آپ کے خلاف متحد ہے آپ کو تقریر سے باز رکھا جائے اور اب تک گویا لوگوں پر آپ کا مقصد ظاہر نہیں ہوا بلکہ سب یہی سمجھتے ہیں کہ آپ ( خلیفہ اول) کا بھی یہی مقصد ہے کہ انجمن ہی حاکم ہے اور اس کے خلاف جو بعض نے کہا تو آپ کو شدید ہم و غم لاحق ہوا۔حضرت خلیفہ اول نے پیغام سن کر فرمایا کہ یہ لوگ تو ہم کو بیوقوف سمجھتے ہیں مگر ہمارا خدا بھی وہ ہے جس نے ہمیں کہہ دیا ہے کہ تو تقریر کر۔ہمارا فرشتہ تمہارے ساتھ ہوگا اور اس کا نشان ہوگا کہ کوئی بھی تیری تقریر کا خلاف نہیں کر سکے گا اور اگر کوئی کرے تو ہم اس کو ہلاک کر دیں گے۔حضرت خلیفہ اول نے تقریر میں بتایا کہ ان لوگوں نے بڑا گناہ کیا ہے اور تو بہ کے لئے نئی بیعت کی شرط لگائی تو سب سے پہلے معانی کے خواستگار یہی خواجہ صاحب ہوئے اور مولوی محمد علی صاحب کی رکاوٹ کو محسوس کر کے فرمایا کہ مشورہ کر لو تو خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کو نئی بیعت کے لئے تیار کر کے ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔اس جلسہ کے بعد اپنے جوش کے باعث چند منٹ بھی تو ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب قادیان میں نہیں ٹھہرے اور اپنے کمرہ میں مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آپ نے تذلیل کرائی ہے۔اب میں یہاں پر ہرگز نہیں رہوں گا۔خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کو ہفتہ بھر سمجھاتے رہے کہ ایسے کاموں میں جلدی اور جوش سے نقصان پہنچتا ہے۔تحمل سے موقع کا منتظر رہنا چاہئے اگر مقصد حل ہو جائے تو بہتر ورنہ عاجزی سے دوسرے موقع کا انتظار کرنا چاہئے۔ہم نے زور لگا کر دیکھ لیا ہے۔قوم خلیفہ کے ساتھ ہے لیکن وہ بوڑھا ہے آج کل میں گزرنے والا ہے اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب کشمیر چلے گئے اس وقت حکیم فضل دین صاحب بھیروی کی حویلی کی فروخت کا معاملہ پیش آیا۔حضرت خلیفہ اول ایک شخص کو دو ہزار میں دلوانا چاہتے تھے۔(جس کی قوی وجو ہات تھیں۔مؤلف ) مولوی محمد علی صاحب اس موقع پر مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم حکیم صاحب کے بھائی سے چھ ہزار تک لے سکتے ہیں۔مقصد یہ تھا کہ جماعت اس تفصیل کو سنے گی تو حضرت خلیفہ اول کی شہرت کو دھکا لگے گا اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کو فتح حاصل ہوگی۔مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت خلیفہ اول نے نماز کے بعد سب کو کہا کہ میں نے سمجھا تھا کہ فتنہ مر گیا ہے مگر اس نے پھر سر اٹھایا ہے۔اس لئے دوست دعا