اصحاب احمد (جلد 5) — Page 285
۲۸۹ کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے کچل دے اور وہ پھر کھڑا نہ ہو سکے۔اس پر ہم چند اشخاص نے مشورہ کر کے مولوی عبدالحئی صاحب عرب کو بھیجا جنہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ حضرت خلیفہ اول اس شخص سے وعدہ کر چکے ہیں اور خلیفہ اول ہزار ہا روپیہ انجمن کو دے چکے ہیں اور ایک کمرہ قریب میں بنوانے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔وہ کبھی کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتے۔ممکن ہے وہ اس کمی سے دو چندانجمن کو دیدیں۔وہ خلیفہ ہیں۔آپ مخالفت کریں گے تو وہ جماعت سے آپ کو خارج کر دیں گے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ہم کسی کا روپیہ نہیں لیتے اور نہ انجمن کا روپیہ چھوڑتے ہیں۔میرا اخراج از جماعت سہل امر نہیں لندن اور امریکہ تک میرا نام پہنچ چکا ہے۔خواجہ صاحب نے کشمیر سے تار دیا اور خط لکھا کہ ایسے رویہ سے باز رہیں ورنہ میں ساتھ نہ دوں گا۔تب مولوی محمد علی صاحب باز آئے لیکن اس وقت تک حکیم صاحب مرحوم کے بھائی کو حضرت خلیفہ اول کی ناراضگی کا علم ہو چکا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اب اگر مجھے حویلی مفت بھی دیں تو بھی نہیں لوں گا۔خواجہ صاحب کشمیر سے واپس آئے تو اس بات کی مولوی محمد علی صاحب کو تلقین کی کہ اب مقابلہ بالکل نہ کریں بلکہ آخری وقت کے منتظر رہیں۔مگر یہ دیکھ کر بہت خطرہ محسوس کیا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی ترقی روز افزوں ہے اور حضرت خلیفہ اول نے آپکو اپنی جگہ انجمن کا صدر اور امام الصلوۃ مقرر کر دیا ہے۔چند مقامات پر حضرت صاحبزادہ صاحب تقریر کے لئے تشریف لے گئے تو بہت تعریف ہوئی۔اس کی روک تھام خواجہ صاحب نے یوں کی کہ حضرت خلیفہ اول سے بڑی تڑپ سے عرض کی کہ حضور کو معلوم ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود جب کبھی باہر تشریف لے جاتے تو کس قدر مخلوق آپ کی خدمت میں ہوتی اور ایک شان نظر آتی تھی اور اب ان کے صاحبزادے ہیں اور ہم ان کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں اور حضور معمولی جیسے لوگوں کی درخواست پر بھی ان کو اکیلا باہر بھیج دیتے ہیں۔جو کہ بالکل ہی ان کی شان کے خلاف ہے اور اس سے ہمیں صدمہ ہوتا ہے۔دوسری طرف حضرت ام المؤمنین تک یہ بات پہنچائی کہ ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔حضرت خلیفہ اول بے پرواہ ہیں۔ساری دنیا دشمنوں سے بھری پڑی ہے۔جو کہ بُرے سے بُرا ارادہ رکھتے ہیں خلیفہ اول میاں صاحب کو اکیلے باہر بھیج دیتے ہیں۔جب تک وہ واپس نہ آجائیں ہمیں آرام نہیں آتا۔اس طرح حضرت میاں صاحب کا باہر جانا بند کر کے خود تقریروں کے دورے پر باہر جانا شروع کر دیا اور ہر جگہ حضرت میاں صاحب کی نسبت طرح طرح کے افتراء سنا کر بدظنی پھیلاتے رہے۔خواجہ صاحب کو کسی کے کام سے ولایت جانا پڑا تو ان کی صحبت اور تلقین صبر سے جدائی کے باعث ان کے رفقاء میں پھر جوش بھر آیا اور حضرت خلیفہ اول کی بقیہ چند روزہ زندگی بہت طویل نظر آنے لگی۔وہ صبر نہ کر