اصحاب احمد (جلد 5) — Page 280
۲۸۴ ایدہ اللہ تعالیٰ کے امیر تسلیم کرنے کے لئے یہ شرط بالکل پیش نہیں کی کہ غیر احمدیوں کی نسبت فتویٰ تکفیر سے رجوع کریں۔حالانکہ سب سے پہلی شرط یہی ہونی چاہیے تھی کیونکہ حقیقی مسلمان کو کافر کہنے والا ہرگز امیر نہیں ہوسکتا۔بلکہ ان کو پاک نفس قرار دیا۔جب یہ تجویز ہوئی کہ وفد حضرت میاں محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ ) کے پاس بھیجا جائے کہ اگر وہ لکھ دیں کہ پرانے احمدیوں سے بیعت نہ لیں گے اور صدر انجمن پر حکومت نہ کریں گے تو پھر ہم ان کو تسلیم کر لیں گے۔اس میں بھی یہ شرط نہ کی کہ بشرطیکہ وہ تکفیر چھوڑ دیں۔احمدیوں سے بیعت لینے کے متعلق آپ لکھ چکے ہیں کہ جو چاہے خلیفہ کی بیعت کرے لیکن اسے ضروری قرار نہ دیا جائے اس سے ثابت ہے کہ بیعت کرنا یا نہ کرنا دونوں آپ کے نزدیک جائز ہیں تو ایک جائز امر کے لئے تفرقہ جیسا نا جائز اور ممنوع اور حرام امر کا ارتکاب کرنا کس طرح جائزہ ہوسکتا ہے۔اسی طرح حضرت مولوی سرور شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ابطال خلافت کے لئے کس جرات سے حضرت مسیح موعود کی نبوت ورسالت کی خاک اڑائی ہے اور کس دیدہ دلیری سے حضور کے ماننے کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر عبدالحکیم کو جماعت سے خارج کر دیا اور اسی لئے خارج کیا تھا کہ وہ آنحضرت صلعم اور حضرت مسیح موعود کے ماننے کو مدار نجات قرار نہیں دیتا تھا۔اسی طرح مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ آپ لوگ کس کس رنگ میں حضور پر یہ الزامات لگاتے تھے کہ کیسی غضب کی بات ہے کہ قومی مال ناجائز رنگ میں استعمال ہوتا ہے۔شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور روپیہ اچھی طرح نہیں سنبھالا جاتا۔ان باتوں میں خواجہ کمال الدین صاحب پیش پیش تھے اور حضور کی ناراضگی کی ان کو مطلق پرواہ نہ تھی۔حضور نے بار ہا خواجہ صاحب کے ضعف ایمان کا ذکر کیا مثلاً سعد اللہ لدھیانوی والے مضمون کے متعلق ( کہ اس مضمون میں تبدیلی کرانا چاہتے تھے۔مؤلف ) اور جلسہ اعظم مذاہب والے مضمون کو سن کر خواجہ صاحب نے منہ بنا لیا۔گویا جلسہ میں سُنانے کے قابل نہیں سمجھا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کے اعلیٰ ہونے کی خبر دی تھی اور باوجود ( تاکید کے اس بارہ میں اشتہارات کی اشاعت نہ کی۔یہ خواجہ صاحب کی ہی تدبیر تھی کہ غیر از جماعت لوگوں کا قرب حاصل کیا جائے۔اگر احمدیوں کو چھوڑا تو متلون مزاج ٹھہریں گے اس لئے جماعت میں رہتے ہوئے غیر احمدیوں میں رسوخ حاصل کرنے میں موانع ، خلیفہ فتویٰ کفر، نمازوں کی علیحدگی اور نماز جنازہ میں عدم شرکت تھے۔ان موانع کو دور کرنے کے لئے احمدیوں کے ایک با اثر جتھہ کی ضرورت تھی۔جو آپ ( یعنی مولوی محمد علی صاحب) کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے انہوں نے آپ کو آلہ کار بنایا۔آپ خواجہ صاحب کے اصولوں کے خلاف تھے اور آپ سے ان کے مباحثات ہوتے تھے اور آپ ان کو ”ہمارے پولوس کہا کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ لاہور کے جلسہ میں بھی آپ کے منہ سے یہ لفظ نکل گیا