اصحاب احمد (جلد 5) — Page 281
۲۸۵ تھا۔خواجہ صاحب آپ کو اپنے موافق بنا کر آلہ کار بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔آپ کے قادیان چلا آنے کو بے مثل قربانی قرار دیتے۔کبھی اپنا پیر ومرشد ظاہر کرتے اور کبھی آپ کے علم و فضل اور معارف و حقائق کی داد دیتے۔آپ کو مولانا کے خطاب سے یاد کرتے کبھی آپ کے پاس بیٹھ کر کسی دوسرے کو مخاطب کر کے کہتے کہ اگر قوم میں سے کئی افراد آگے بڑھنا چاہیں تو ان میں کشمکش پیدا ہوتی ہے اور کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ہاں اگر ساری قوم ایک آگے بڑھے ہوئی شخص کو آگے بڑھانے لگے تو اس شخص کی شخصیت دوسروں کے نزدیک بھی ضرور مؤثر ہو جاتی ہے اور پھر آپ کی طرف اشارہ کر کے کہتے کہ ہم میں یہی ایک شخص ہے جو آگے ہے اور ہم سب کو مل کر اس کو اور آگے کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب نے آپ کے دو اوصاف کا خوب مطالعہ کر کے ہر ایک سے اچھی طرح فائدہ اٹھایا۔ایک وصف مخالفت ، قوت انتقام اور غضب کی اور دوسری دوستی کی ، حضرت خلیفہ اول اور حضرت مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ ) سے آپ کو رنج تو ہو ہی چکا تھا۔پس خواجہ صاحب ان کی مخالفت کا رنگ چڑھا کر آپ کو باتیں اور چالیس منوا لیتے مثلاً کہدیا کہ (حضرت) میاں محمود احمد صاحب کے اقتدار کی روک تھام کا سارا راز اسی میں بھرا پڑا ہے اور کبھی دوستانہ رنگ کی باتیں کر کے آپ کو ان کے قبول کرنے پر مائل کر دیا۔سو اس طرح خواجہ صاحب نے آپ کو اپنا آلہء کار بنالیا۔حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں :- جناب اس زمانہ پر غور فرما ئیں جب کہ اخبار وطن والی تجویز ہوئی۔وہ ابتدائی زمانہ تھا اور وہ تجویز اس ( یعنی خواجہ صاحب) کی قائم کردہ سکیم کا آغاز تھا۔مجھے وہ وقت خوب یاد ہے جب کہ اچانک حضرت مسیح موعود آپ کے حجرہ میں آگئے اور آتے ہی فرمایا کہ مولوی صاحب میں آپ سے ایک بات دریافت کرتا ہوں کہ اسلامی رسائل بہت کچھ شائع ہوئے مگر ان کا غیر مذاہب پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آپ کے رسالہ کا اثر مخالفوں نے بھی مانا ہے اس کی کیا وجہ ہے کیا مردہ اسلام وہ نہیں پیش کرتے ؟ تو اگر آپ کے رسالہ میں بھی مجھے نہ پیش کیا گیا اور مردہ اسلام پیش کیا گیا تو اس کا کیا اثر ہوگا۔تو آپ نے اس وقت یہی جواب دیا کہ حضور میں نے بھی خواجہ صاحب کو یہی کہا تھا اور میں تو اس تجویز کا مخالف ہوں۔فقط خواجہ صاحب ہی نے اس کو پسند کیا ہے اور وہی اس پر زور دے رہے ہیں۔تب حضور نے خواجہ صاحب کو خط آپ سے لکھوایا تھا۔(ص۲۴) قرائن شاہد ہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم مخرج بھی خواجہ صاحب کا زیر تربیت تھا۔چنانچہ ڈاکٹر نے الذکر الحکیم نمبرم میں لکھا کہ جب ایڈیٹر وطن کی تحریک پر مولوی محمد علی صاحب و خواجہ صاحب وغیرہ نے یہ تجویز شائع کی کہ ریویو آف ریلیجنز قادیان میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور ( حضرت ) مرزا صاحب کے متعلق ابحاث علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہوں جو مریدوں یا خواہشمندوں کے نام بھیجوائی جائیں۔اس تجویز کی اشاعت سے میرا