اصحاب احمد (جلد 5) — Page 279
۲۸۳ آپ اس کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول بار بار مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ یزید بہت ہی برا شخص ہوا ہے۔خدا نے مجھے سالم سورۃ قرآن اس کے حق میں نازل فرمائی ہوئی بتائی ہے۔اسی طرح بنی امیہ کے حق میں بھی ایک سالم سورۃ موجود ہے۔آپ ضرور اس کے متعلق قرآن مجید کے نوٹوں سے زور سے لکھیں۔یہ بہت ہی برا آدمی ہوا ہے اس لئے کہ اس نے بڑے پاک خاندان کا مقابلہ کیا ہے۔ایک دن آپ نے بڑے زور کے ساتھ فرمایا اور پھر زار زار رو پڑے۔ہم نے الگ اس بارہ میں گفتگو کی کہ حضور بڑے زور سے اور بار بار اور بالخصوص مولوی محمد علی صاحب کو ہی مخاطب کر کے کیوں فرماتے ہیں تو ایک معزز شخص نے کہا کہ حضرت خلیفہ اول یہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ مخالفت اہلبیت کر کے یزیدی سنت بننے والے ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ایسے لوگوں کے رئیس ہیں۔نیز اس مضمون میں مولوی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات نے پیش آمدہ واقعات کا نقشہ کھینچ دیا۔خصوصاً حضور کے آخری سالوں کے ماہ مارچ کے اور پھر خصوصاً ۱۴،۱۳ اور ان کے قریب کی تاریخوں میں یہ الہامات ہیں جن میں بتایا کہ اس غیر مبایعین کے رئیس کا مرکز لاہور ہوگا۔یہ لوگ اہلبیت پر افترا کریں گے۔اہلبیت چونکہ صادقین میں سے ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی تطہیر کرے گا۔ایک سنجیدہ شخص مرتد ہو گا۔مولوی محمد علی صاحب کو رڈیا میں کہ آپ بھی صالح تھے ، چنانچہ مولوی صاحب کی قادیان سے عشق والی بات جاتی رہی۔انہوں نے ترجمۃ القرآن کے متعلق غیر صالح طریق اختیار کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے پاگل اور ننگا ہونے اور حضرت مسیح موعود اور حضرت مولوی نورالدین صاحب پر حملہ کرنے اور مسجد یعنی جماعت سے نکلنے کا حضور نے رؤیا دیکھا۔غیر مبایعین نے قادیان، مقبرہ بہشتی ، قادیان میں چندہ دینا ، قادیان کی انجمن قادیان کے مہاجرین ، اصحاب الصفہ ، خدا کے مسیح کے اہلبیت اور دارا مسیح اور دار والوں ، خدا کے مسیح کے خلیفہ، اس کی جماعت اور مسیح موعود کی نبوت ان سب باتوں کو چھوڑا۔یہ لوگ جماعت احمدیہ سے منافرت اور مخالفین سلسلہ سے پیار رکھتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے خیالات ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی مرتد کے خیالات سے مشابہ ہیں۔(۱۰) ”کشف الاختلاف‘ کتاب و صفحات ۵۲ سائز ۲۲ ۲۰ مطبوعہ ۲۰ فروری ۱۹۲۰ ء آپ کے دو خطوط پر مشتمل ہے جن میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی قادیان سے علیحدگی کے حقیقی اسباب قلمبند ہیں۔ایک خط مولوی صاحب کے نام اور ایک اپنے رشتہ دار کے خط کے جواب میں ہے۔اس میں بھی آپ نے عجیب رنگ میں نہایت مسکت دلائل رقم فرمائے ہیں مثلاً تفرقہ کے موجب دوامور ہیں۔فتویٰ تکفیر اور احمدیوں سے بیعت لینا۔غیر مبایعین نے اپنی شوریٰ میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب