اصحاب احمد (جلد 5) — Page 263
۲۶۷ حضرت خلیفہ اول کا انتقال مکان اور ایک وصیت کا فرمان آپ بیان فرماتے تھے کہ: ان لوگوں نے حضرت خلیفہ المسیح اول کے مکان کا اس طور پر محاصرہ کیا ہوا تھا کہ غریب لوگوں کو عیادت کے لئے پاس پھٹکنے نہ دیا جاتا اور حضور تک صحیح حالات نہ پہنچنے دیئے جاتے۔بعض انہی وجوہ کی بناء پر حضور نے نقل مکانی کو پسند فرمایا اس وقت بھی ان لوگوں کی انتہائی کوشش رہی کہ بورڈ نگ تعلیم الاسلام کے چوبارہ میں آپکو ٹھہرایا جائے تا کہ ان کا قبضہ بدستور قائم رہے لیکن حضور نے اسے پسند نہ کیا اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی دارالسلام میں نقل مکانی کی گئی۔کوٹھی دار السلام میں آنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح اول نے قلم دوات منگوائی۔آپ کانے کی دیسی قلم استعمال کرتے تھے۔میں اپنی لڑکی اہلیہ میاں عبدالحی صاحب کے پاس گیا اور ان سے قلم کے لئے کا نالیا۔بقیہ حاشیہ: کہ میں صحاح کو سامنے رکھ کر ان کو چھانٹ کر کے اس کتاب کو اس نقص سے پاک کر دوں۔مگر اب میرے سپر دایسا کام ہو گیا ہے کہ مجھے دوسرے کاموں کی فرصت کم ملتی ہے اور عمر کا تقاضا بھی ایسا ہی ہے پس اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوسکتا۔اگر آپ (حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ) کو ان کے زمانہ اشارہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف تھا۔جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ) اور میں (حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ) خداوند تعالیٰ توفیق دے تو اس کام کو ضرور کرنا۔خدا آپ کو بہت بڑا اجر دے گا۔اس بات پر مکرم چوہدری بدر بخش صاحب مرحوم ( اس وقت آپ کا نام بدر بخش تھا) جو حلقے میں بالکل میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، نے اٹھ کر حلقے کا نصف دائرہ طے کر کے میرے پاس آکر میرے کان میں کہا مولوی صاحب یہ بڑی قابلِ قدر بات ہے اس کو ضرور نوٹ کر لیں۔چنانچہ ان کے کہنے پر میں نے کاپی نکالی اور حضرت مولوی صاحب کی یہ بات لکھ لی اور اس وقت میں نے اس مجلس کے آدمیوں کو شمار کیا جو ساٹھ آدمی تھے۔حضرت خلیفہ اسیح اول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور خاکسار کو چھوڑ کر ۲۴۴