اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 204 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 204

۲۰۸ خیال ہی سمجھا جائے کہ اس کالج میں ہر زبان کے پروفیسر مقرر ہوں، جو مختلف ممالک کی زبانیں سکھائیں۔اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ ہر ملک کے لئے مبلغ نکلیں لیکن یہ ایک دن میں پوری ہو جانے والی بات نہیں ہے۔ابھی آج تو ہم اس کی بنیا درکھ رہے ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے ساتھ بھی مبلغین کی کلاس تھی۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ ہر چیز اپنی زمین میں ہی ترقی کرتی ہے۔جس طرح بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پودے ترقی نہیں کرتے اسی طرح کوئی نئی چیز دیرینہ انتظام کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی۔اس وجہ سے جامعہ کے لئے ضروری تھا کہ اسے علیحدہ کیا جائے۔اس کے متعلق میں نے ۱۹۲۴ء میں صدر انجمن احمدیہ کو لکھا تھا کہ کالج کی کلاسوں کو علیحدہ کیا جائے اور اسے موقع دیا جائے کہ اپنے ماحول کے مطابق ترقی کرے آج وہ خیال پورا ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیاد ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہوگی۔اس موقع پر میں ان طلباء کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو اس میں داخل ہوئے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ان کے سامنے عظیم الشان کام اور بہت بڑا مستقبل ہے۔وہ عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹیں ہیں اور پہلی اینٹوں پر ہی بہت کچھ انحصار ہوتا ہے ایک شاعر نے کہا تھا۔خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا ے رود دیوار کج اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے تو ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی رہے گی۔گو کالج میں داخل ہونے والے طالب علم ہیں اور نظام کے لحاظ سے ان کی ہستی ما تحت ہستی ہے لیکن نتائج کے لحاظ سے اس جامعہ کی کامیابی یا نا کامی میں بہت بڑا دخل ہے یہ تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے کام ترقی کرتے جائیں گے۔مگر ان طلباء کا ان میں بہت بڑا دخل ہو گا اس لئے انہیں چاہیئے کہ اپنے جوش اپنے اعمال اور اپنی قربانیوں سے ایسی بنیاد رکھیں کہ آئندہ جو عمارت تعمیر ہو اس کی دیوار میں سیدھی ہوں ان میں کجی نہ ہو۔ان کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک ہی غایت ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا علاء ہو۔اس جامعہ سے پڑھ کر نکلنے والے سارے کے سارے دین کی خدمت میں نہیں