اصحاب احمد (جلد 5) — Page 182
۱۸۶ جمعہ ہوتے تھے۔حضرت صاحب کی وفات تک یہی طریق رہا۔ماخوذ از حصه اصل روایت: ۱۵) حصہ سوم ( روایت (۶،۸) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تاریخ وفات اا/اکتوبر ۱۹۰۵ء سے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے جن دس اصحاب کی امامت میں حضرت مسیح موعود کونماز با جماعت پڑھتے دیکھا ہے ان میں مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی ہیں۔۹۰ البدر میں زیر عنوان ” سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خبریں مرقوم ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب۔۔۔زیادہ علیل ہوگئے۔اس لئے حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب فرض امامت نماز کو بجالاتے رہے اور حکیم صاحب کی علالت میں بوجہ نا موجود ہونے سید محمد احسن صاحب امروہی کے سید سرور شاہ صاحب مدرس قادیان امامت کراتے رہے۔21 ۶-۳-۱۸ کا خطبہ جمعہ جو حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب سلمہ ربہ نے قادیان میں پڑھایا اس کا موضوع یہ تھا کہ انبیاء و اولیاء کے مخالفین پر جو عذاب و مصائب آئے ان سے درس عبرت حاصل کرنا چاہئے۔۹۲ بدر زیر عنوان مدینہ المہدی“ مرقوم ہے:۔حضور رسالت مآب کی صحت اچھی ہے آپ صبح و شام سیر کو تشریف لے جاتے ہیں۔مسجد مبارک میں سید سرور شاہ صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی۔آپ نے فرمایا کہ نبی ایسے وقت میں آتے ہیں جب قوم کے علماء و امراء و اہل قلم اوروں کے محتاج ہو جاتے ہیں اور بوجہ دنیا پرستی کے نہ حق ظاہر کر سکتے ہیں نہ حق کی مدد بلکہ اپنی عزت قائم رکھنے کے لئے مخالفت میں حصہ لیتے ہیں۔پہلے معمولی نشان دکھائے جاتے ہیں جب انہیں نہیں مانتے تو پھر قہری نشانوں کے ذریعہ متنبہ کیا جاتا ہے۔آخر ہلاک ہوتے ہیں۔‘ ۹۳ بقیہ حاشیہ:- سید سرور شاہ صاحب کے الفاظ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی قلم سے اور باقی عبارت اعجاز صاحب موصوف کے قلم سے نوشتہ ہے۔طریق یہ تھا کہ ایک چٹھی پر عبارت لکھ کر اور نام کے لئے جگہ خالی چھوڑ کر جس کے آخر پر ”صاحب“ کا لفظ بھی ہوتا تھا حضور کی خدمت میں پیش کر دی جاتی تھی۔حضور دستخط فرما دیتے تھے۔بعض امیر مقامی کا نام خود اپنی قلم سے رقم فرما دیتے اور بعض دفعہ زبانی بتا دیتے تھے۔الفضل میں اس تاریخ کو سفر کرنامذکور نہیں۔حضور در دنفرس سے زیادہ علیل تھے غالبا ایسی کسی وجہ سے سفر ملتوی ہو گیا ہوگا۔(۹) ۳۸ - ۲ - ۲۸ کو موضع پھیر و پیچی نز دقادیان جاتے ہوئے آپ کو امیر مقامی مقرر کیا۔حضور ۲ / مارچ