اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 160 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 160

۱۶۴ خط آپ ہی سے لکھوا دیا تھا۔آپ صحابی تھے ہیں میر جی سید سرور شاہ صاحب کے والد ماجد حضرت مولوی صاحب ساتھ اپریل ۱۹۰۸ء میں قادیان چنددن کے لئے آنے کے علاوہ قبل ازیں ۱۹۰۶ء میں مع اہلیہ اقبال بیگم صاحبہ دختر راجہ عطا محمد صاحب آئے تھے۔اس وقت مولوی صاحب بورڈنگ میں بطور سپرنٹنڈنٹ مقیم تھے۔سید صاحب نے بورڈنگ والے مکان میں قیام رکھا اور مولوی صاحب اپنے اہل وعیال سمیت سکھوں والے مکان میں آگئے۔میر جی قریباً تین ماہ قیام کر کے مع اہل وعیال واپس چلے گئے گویا دونوں صحابی تھے میر جی موصوف کے متعلق الفضل میں مرقوم ہے :- اصحاب احمد جلد پنجم حصہ اول ( ص ۶۰،۴۴) آپ کی اہلیہ محترمہ کی بیعت کے حوالے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔(الف) اہلیہ وسیّد سرور شاہ صاحب داتہ ہزارہ ۲۹ دوسری بار کالم ۲ میں ” سید محمد سرور شاہ صاحب“ نام بھی بغیر سکونت کے درج ہے۔(ب) اہلیہ سید سرور شاہ صاحب داتہ ہزارہ ، مانسہرہ سے اسی کالم میں سید محمد سرور شاہ صاحب کی بیعت بغیر سکونت کے درج ہے۔ہر دو حوالجات کی کم و بیش ایک کالم کی فہرست دونوں پر چوں میں ملتی جلتی ہے کسی جگہ ترتیب تبدیل بھی ہوئی ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ بیعت کی اطلاع دینے والے محرر نے دوبارہ فہرست بھجوا دی اور متعدد خطوط دوبارہ تیار کرنے کے باعث اسماء ملتے جلتے ہیں اور ترتیب میں تبدیلی بھی ہوئی ہے اور کچھ حصہ فہرستوں کا مختلف بھی ہے۔سید محمد سرور شاہ صاحب کی بیعت حضرت مولوی صاحب کی بیعت سے بھی پہلے کی ہے۔ممکن ہے کسی سہو سے فہرست تیار کرنے والے نے نام دے دیا یا ان کے خط سے ایسا مفہوم سمجھا کہ وہ پہلی دفعہ کر رہے ہیں۔وغیرہ کئی امکانات ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب نے اپنی دوسری اہلیہ دختر راجہ عطا محمد خان صاحب کی بیعت کا خط لکھا ہوگا۔ان کی اہلیہ اول کی وفات پر دوسرے نکاح کی تحریک کے لئے حضرت مولوی صاحب کشمیر گئے تھے اور جیسا کہ تعین تاریخ ہجرت میں تفصیل پیش کی گئی ہے۔سفر کشمیر اپریل یا مئی ۱۹۰۱ء سے اواخر نومبرا ۱۹۰ ء تک ہوا تھا اور الحکم سے اندراجات مئی اور جولائی ۱۹۰۲ء کے ہیں۔** ۱۹۰۶ء میں میر جی کی آمد کے متعلق سارا بیان اہلیہ دوم حضرت مولوی صاحب کا ہے اور وہ فرماتی ہیں کہ ۱۹۱۵ء تک ہم کئی بار بورڈنگ میں اور وہاں سے سکھوں والے مکان میں منتقل ہوتے رہے۔۱۹۱۵ء میں