اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 129 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 129

۱۳۳ رشتے نا منظور کئے اور فرمایا ایسا رشتہ ہونا چاہئے جو ظاہری شکل و شباہت میں بھی اچھا ہو۔مثلاً میاں جیون بٹ صاحب امرتسری کے ہاں۔مولوی صاحب میاں جیون بٹ صاحب سے واقف نہ تھے بلکہ ان کو دیکھا ہوا بھی بقیہ حاشیہ - ایبٹ آباد ملازم ہوئے اور قرآن مجید کی تفسیر دوشاگردوں کو پڑھائی۔گویا د یو بند اور سہارنپور کے قیام تک ہی ۱۸۹۵ ء ہو جاتا ہے۔(ب) زیارت مسیح موعود آپ نے لدھیانہ میں ۱۸۹۲ء میں کی تھی ۳۸-۱-۱۵ کے بیان میں مرا د زیارت بعد بیعت ہوگی۔وہ بھی ۱۸۹۴ء میں نہیں ہوئی جیسا کہ بیان زیر (الف) سے ظاہر ہے۔(ج) بعد بیعت آپ نے زیارت بعد وفات اہلیہ اول کی تھی اور آپ کل عرصہ قیام پشاور (جہاں آپ بیعت کے دوسرے روز چلے گئے تھے ) اڑھائی سال بتلاتے ہیں۔پھر وہاں سے آپ نے ہجرت کی۔گویا پہلی بار زیارت بعد بیعت آپ نے پشاور سے آکر کی تھی اور آپ کے ۳۸-۱- ۱۵ کے بیان کو صحیح قرار دینے کی صورت میں کم از کم ۱۸۹۴ء قیام پشاور کا آغاز متصور کرنا ہوگا اور آپ کی ہجرت ۱۹۰۱ء کی ہے۔یہ عرصۂ قیام علی الاقل سات سال بنتا ہے۔سات سال کے عرصہ قیام کے متعلق عقل باور نہیں کرتی کہ کوئی شخص اسے اڑھائی سال قرار دے البتہ میرے حساب میں چار سال ایک ماہ بنتا ہے۔اس میں ایسے سہو کا امکان ہے۔(۲) تاریخ ہجرت: - شواہد قطعیہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپریل یا مئی ۱۹۰۱ ء میں ہجرت کی۔(الف) آپ کا بیان ہے کہ آپ اڑھائی سال تک مشن کالج پشاور میں ملازم رہے اور بیعت کے معا بعد ہی آپ پشاور چلے آئے اور گویا اڑھائی سال بعد آپ نے ہجرت کی۔تاریخ بیعت ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء سے قبل قریب کے عرصہ کی متعین ہونے پر حساب کی سہولت کے لئے ہم اسے یکم مارچ قرار دے لیتے ہیں گویا قیام پشاور یکم مارچ ۱۸۹۷ء تاریخ ہجرت ۲ سال یکم ستمبر ۱۸۹۹ء یا یوں سمجھ لیجئے کہ آپ کے بیان کی رو سے آپ نے ۱۸۹۹ء کے اواخر میں ہجرت کی۔لیکن بیان ذیل کے شواہد قطعیہ سے نادرست قرار پاتا ہے:۔-1 -۲ الحکم ۰۱-۲-۲۴ میں آپ کے پشاور سے چندہ بھجوانے کا ذکر ہے۔(ص۱۶ک۳) ۳۱ مارچ اور یکم اپریل ۱۹۰۱ء کے اجلاسات بابت فروخت حصص ریویو آف ریلیجنز کی رودادوں میں آپ کا نام ( ”مولوی سید سرور شاہ صاحب) درج ہے۔حصہ خریدنے والوں کی اس فہرست میں آپ کے نام سے پہلے ایک اور بعد میں دو احباب پشاور کے اسماء ہیں (الحکم ۰۱-۴-۷اص ۲ ک (۲) گویا اس وقت ابھی آپ پشاور میں تھے۔