اصحاب احمد (جلد 5) — Page 52
۵۲ آگے صحن میں چار پائی کے پایہ کے ساتھ کتا بندھا ہوا اور چار پائی پر مرزا امام الدین صاحب کو جنگے سر بیٹھے دیکھا۔مسجد مبارک کا نقشہ بھی خواب کے مطابق تھا۔مسجد میں داخل ہو کر آپ کو خیال آیا کہ دار امسیح کے اس دروازہ کے اندر جو مسجد میں کھلتا ہے جو نالی آپ نے دیکھی تھی اسے بھی دیکھیں۔چنانچہ جب آپ دروازہ کے اندر گئے تو وہ نالی پہلے نظر نہ آئی کیونکہ اس پر ایک تختہ بچھا ہوا تھا لیکن جب آپ اس تختہ کے اگلے سرے پر پہنچے تو وہ نالی نظر آنے لگی اور وہ اسی طرح دیوار میں داخل ہو کر نیچے گلی والی نالی میں جاگرتی تھی۔پھر آپ نے موضع بسراواں کا ارادہ کیا لیکن اس کا علم نہ ہونے کی وجہ سے نہ گئے۔جب حضور علیہ السلام سیر کے لئے اس طرف گئے تو آپ نے دیکھا کہ یہ ہے تو وہی خواب والی جگہ لیکن وہ منارہ نظر نہ آیا اور نہ ہی اسٹیشن دیکھا۔اس لئے کہ قادیان میں اس کے بہت بعد دسمبر ۱۹۲۸ء میں گاڑی آئی۔جب ریل جاری ہونے لگی تو قادیان کے ہندو سکھ اور غیر احمدی چاہتے تھے کہ اسٹیشن قادیان کے جنوبی جانب بنایا جائے کیونکہ اس طرف غیر مسلموں کی اراضی تھیں اور وہ زیادہ فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن جماعت احمدیہ شمالی جانب پسند کرتی تھی کیونکہ وہاں تمام اراضی جماعت احمدیہ کی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بعض دوستوں سے دریافت کیا کہ اگر کسی نے خواب یا کشف میں دیکھا ہو کہ اسٹیشن قادیان کے کس طرف بنا ہوا ہے تو اطلاع دے۔چنانچہ آپ نے مندرجہ بالا خواب تحریر کر کے بھیجا اس وقت حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ بس اواں کی طرف جو منارہ آپ نے دیکھا تھاوہ اب بھی موجود ہے مگر کچھ شکستہ حالت میں ہے۔حضور علیہ السلام کا اپنی فراست سے مولوی صاحب میں رشد وسعادت پانا ایک دفعہ موسم گرما کی تعطیلات میں آپ کے ساتھ نو اور آدمی قادیان آئے۔ان میں سے ایک میر مدثر شاہ صاحب ( حال غیر مبائع) بھی تھے۔مولوی صاحب کا ارادہ ایک ماہ ٹھہرنے کا تھا لیکن تین دن گذر نے پر میر صاحب نے واپس جانے پر اصرار شروع کیا اور آپ سمجھتے تھے کہ میر صاحب بہت اصرار کرنے والے شخص ہیں ان سے بچنا مشکل ہے۔آپ نے کہا بھی کہ میر صاحب آپ چلے جائیں لیکن وہ آپ کو ساتھ لے جانے پر مصر تھے۔آپ نے ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ سر دست واپس چلے جائیں اور وہاں سے پھر قادیان واپس حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس کے علاوہ مرزا محمد اشرف صاحب (سابق محاسب صدر انجمن احمدیہ ) نے بھی اسی قسم کا خواب دیکھا تھا اور ہم صرف دو ہی ایسے آدمی تھے کہ جنہوں نے اسٹیشن کی جگہ کے متعلق خواب تحریر کر کے دیا تھا۔(مؤلف)