اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 50 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 50

3 مشن کالج کی پروفیسری پشاور میں پادری ڈے کی رہائش انگریز پادری ہور مینجر مشن ہائی سکول کی کوٹھی پر تھی اور دونوں میں بہت دوستانہ تھا۔ہائی سکول کو کالج بنانے کے ارادہ سے پادری ہور نے سکیم شائع کی تو اس کے عملہ میں حضرت مولوی صاحب کا نام بغیر پوچھے لکھ دیا چونکہ پادری ڈے عربی اور فارسی کا بڑا عالم سمجھا جاتا تھا اس لئے اس کا استاد ہونا ایک اعلیٰ سند تھی۔اگلے روز آپ پڑھانے لگے تو پادری ڈے نے مبارک باددی اور ساتھ ہی افسوس کیا کہ اس تقریر میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ وہ سفارش کرتا اور منظوری ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس نے بار بار کہا کہ آپ انکار نہ کریں۔مولوی صاحب پادری ڈے کو پڑھاتے رہے۔شروع میں ہی آپ کالج میں بھی لگ گئے تھے۔وہ بیمار ہو کر انگلستان چلا گیا۔آپ قریباً اڑھائی سال تک مشن کا لج میں پڑھاتے رہے۔پشاور میں ایک قابلِ قدر کام۔اشتہار پیر مہر علی شاہ کا جواب اس عرصہ میں آپ کو وہاں تبلیغ کے اچھے مواقع میسر آتے رہے لیکن سب سے زیادہ قابل قدر کام ایک اشتہار تھا جس سے آپ کا تعارف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوا۔حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ نے تین تحریری سوال پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے دریافت کئے تھے۔اس وقت تک پیر صاحب کھل کر سامنے نہیں آئے تھے اور مولوی غازی کے ذریعہ سے تحریر شائع کرواتے تھے۔چنانچہ مولوی غازی کے نام سے ان سوالوں کے جواب میں ایک اشتہار شائع ہوا جس میں حضرت مولوی صاحب کے سوالوں کے جواب تو ندارد تھے۔مگر آپ پر چند سوال کئے گئے تھے کہ پہلے آپ ان کا جواب دیں۔پھر ہم جواب دیں گے۔قریباً نصف پشاور پیر صاحب کا مرید تھا۔وہ لوگ یہ اشتہار لئے ہر احمدی کے پاس پہنچتے کہ پہلے ان سوالوں کا جواب دیں۔پھر آپ کو سوال پوچھنے کا حق ہوگا۔مولوی سرور شاہ صاحب بیعت کے بعد ابھی تک قادیان نہیں آئے تھے۔مگر حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طبیعت سے واقف ہونے کی وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ وہ اس اشتہار کی طرف توجہ نہیں کریں گے۔آپ نے ایک بڑے کاغذ پر دوطرفہ جواب شائع کیا۔یہ ۱۸۹۹ء سے قبل کی بات ہے اور ایک اشتہار حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھی بھیج دیا۔جب آپ کی اہلیہ اول کی وفات کا تار آیا تو آپ نے ایک لاہور کے احمدی سے جو پاس تھا پڑھوایا اور آپ کی زبان سے بے اختیار نکلا کہ الْحَمْدُ لِله اس لئے کہ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھیں اور ان کی وجہ سے آپ قادیان نہیں آ سکتے تھے اور اب وفات سے تھوڑا عرصہ قبل مرحومہ کی خواہش پر انہیں ان کی والدہ کے پاس چھوڑ آئے تھے۔