اصحاب احمد (جلد 5) — Page 47
۴۷ سے زیادہ قابل قدر اور لائق قبولیت وہ ہیں جو میرے احمدی ہونے کے بعد آپ نے میرے پیچھے پڑھی ہیں لیکن اگر تعصب کی وجہ سے کسی کو نماز دہرانے کا شوق ہو تو وہ اپنی نماز دہراسکتا ہے۔مخالفت حضور علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں آپ نے استعفاء تو نہ دیا لیکن بیعت کے متعلق سارے شہر میں شور پڑ گیا اور جس انجمن کے آپ ملازم تھے گو اس کا یہ قاعدہ تھا کہ اتوار کے سوا کسی اور دن اجلاس نہ ہو اور اگر کسی خاص ضرورت کی وجہ سے سیکرٹری اجلاس بلائے تو اس وقت تک اس پر عمل نہ کیا جائے جب تک کہ اگلے اتوار کے اجلاس میں وہ منظور نہ ہو جائے۔یسین خان رامپوری اس وقت ٹانگہ ایجنسی رکھتے تھے جو حسن ابدال تک چلتی تھی اور بعد میں وہ ایبٹ آباد کے رجسٹرار ہو گئے تھے۔وہ اس انجمن کے ممبر، آپ کے افسر اور دوست بھی تھے۔اسی دن عصر کے بعد آئے اور کہا کہ مولوی صاحب! آپ کی اور میری ایک عرصہ سے دوستی ہے اور میں نے آپ کو کبھی اپنی کسی خواہش کے پورا کرنے کے واسطے نہیں کہا لیکن آج میں ایک بات کہتا ہوں بشرطیکہ آپ اسے پورا کرنے کا وعدہ کریں۔مولوی صاحب نے کہا کہ شریعت کے خلاف نہ ہوئی تو میں اسے پورا کروں گا۔یہ وعدہ لے کر اس نے کہا کہ آپ کے اعلانِ بیعت پر ممبروں میں بڑا جوش پیدا ہوا ہے اور باوجود یکہ آج اتوار نہیں تھا انہوں نے سیکرٹری کو اجلاس بلانے پر مجبور کیا اور اس میں آپ کی برخواستگی کا معاملہ پیش کیا ہے گو مجھے علم تھا کہ میرے ہم خیالوں کی کثرت ہے اور ہم یقیناً اس میں جیت جائیں گے لیکن میں نے یہ خیال کیا کہ اب ان حالات میں یہاں پر آپ کی زندگی تلخ رہے گی اس لئے میں نے اپنے دوستوں کو زور دے کر روکا اور کہا کہ ان لوگوں کی تائید کریں۔چنانچہ ریزولیوشن پاس ہو گیا کہ آپ کو برخواست کر دیا جائے۔پھر یسین خان نے پوچھا کہ کیا آپ کو میری بات پر یقین ہے اور میری بات کو آپ سچ سمجھتے ہیں اور پھر کہا کہ اب آپ کے پیر کی بات پوری ہو گئی۔آپ کے پیر نے کہا تھا کہ خود استعفاء نہ دیں وہ برخواست کریں تو کر دیں اور آپ نے اس کی تعمیل کر دی اور انہوں نے برخواست کر دیا اور میں نے آپ کو سُنا دیا۔میری طبیعت برداشت نہیں کرتی کہ آپ یہاں سے برخواست ہو کر جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سامان بھی ہے کہ وہ اتوار سے پہلے فیصلہ آپ کو نہیں بھیج سکتے۔سو آپ مجھ سے دو ماہ کی رخصت لے کر چلے جائیں اور ایک گالی دیکر کہنے لگا کہ اب وہ ریز ولیوشن کو یہ کریں۔اسی نے کاغذ دیا۔آپ نے درخواست لکھی اور اس نے رخصت کی منظوری دے دی۔شام ہو چکی تھی۔آپ نے ارادہ کیا کہ صبح سامان سنبھال کر پہلے آپ ایک ماہ قادیان ٹھہریں گے اور پھر وطن