اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 661 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 661

۶۶۸ پون روپیہ میں خرید کیا تھا جو اس وقت تک میں نے بطور یادگار سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔(بیان ڈاکٹر صاحب ) اس چھوٹی سی کوٹھڑی میں حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کو میں نے جلد سازی اور سٹیشنری کی دکان کرتے دیکھا ہے۔بھائی جی اور ڈاکٹر صاحب کے بیانات کی تصدیق یوں ہو جاتی ہے کہ ۰۲-۷-۱۷ کو ایک عریضہ کے ذریعہ قاضی صاحب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ اب میں جلد بندی کا کام کہاں کروں اور رہائش کہاں رکھوں۔ڈپٹی شنکر ( داس۔مؤلف ) نے بذریعہ ڈاک نوٹس دیا ہے کہ ایک ہفتہ میں مکان خالی کر دو ورنہ تین روپے ماہوار کرایہ دو۔حضور نے حضرت حکیم فضل الدین صاحب سے معلوم کرنے کو کہا کہ آیا مہمان خانہ میں جگہ ہے اور یہ کہ میرے مکان کے نچلے حصہ میں مکان تعمیر ہونے والا ہے۔اس میں آپ رہ سکتے ہیں بالفعل کوئی مکان تلاش کر لیں۔آپ کے پسر حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ : حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص حالات کی وجہ سے مہمان خانہ کا چھوٹا سا کمرہ جو جانب شمال مغرب تھا ان کو دیا“۔( اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۴۵، ۴۶ ) معلوم ہوتا ہے کہ اول اس دکان والے کمرہ کا کچھ تعلق حضرت نانا جان سے تھا اور نہ مہمان خانہ میں جگہ ہونے کا حضرت حکیم فضل الدین صاحب سے دریافت کرنے کو حضرت اقدس نے تحریر فر مایا تھا۔دوم۔رہائش کے متعلق حضرت اقدس نے بالفعل ( یعنی تا تعمیر حصہ دار مسیح) کوئی مکان تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہمان خانہ والا مشورہ دکان سے متعلق تھا۔حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب کے بیان مندرجہ اصحاب احمد جلد ششم صفحہ ۵۳ میں مرقوم ہے کہ بوقت وفات حضرت والد صاحب احمدی درزی خانہ ( نمبر (۲۹) کے جنوب کے ملحقہ ( نمبر ۲۸) میں دکان کرتے تھے۔( خاکسار مؤلف کو مکرم عبد الاحد خاں صاحب افغان درویش نے بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ اس جگہ سید احمد نور صاحب کا بلی مرحوم بھی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں دکان کرتے رہے ہیں اور مغرب کی طرف اس کا دروازہ تھا) (۴) حضرت اقدس کی اپنی اراضی میں بھی بوجہ مخالفت مرزا نظام الدین صاحب تعمیر کا کام نہیں ہونے دیتے تھے۔ایک روز جب کہ وہ قادیان سے باہر ( بطرف گورداسپور - بیان بھائی صاحب) گئے ہوئے تھے۔ان کی غیر حاضری میں ڈائرکٹر مدرسہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے جنہوں نے کہ سامان پہلے ہی جمع کرا رکھا تھا اپنے چاروں معماروں سے ایک ہی رات میں یہ لمبا چوڑا کمرہ تیار کروا دیا۔چونکہ رات کو اور پھر جلدی