اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 660 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 660

(ب) محترم ڈاکٹر عطر الدین صاحب درویش قادیان اولین زیارت ۱۸۹۸ء بمقام امرتسر بیعت ۱۸۹۹ء،۱۹۰۰ء سے قادیان میں تعلیم پانے لگے۔جہاں سے ۱۹۰۶ء میں لاہور میں تعلیم پانے کے لئے چلے گئے۔( بحوالہ اصحاب احمد جلد دہم صفحه ۳ تا ۵ ) (ج) محترم بھائی محمود احمد صاحب حال مہاجر سر گودھا- اولین زیارت ۱۸۹۹ء بمقام قادیان بیعت ۱۹۰۱ء۔۱۹۰۱ء میں ہی آپ مدرسہ تعلیم الاسلام میں بطور طالبعلم داخل ہوئے اور تا وصال حضور آپ قادیان میں ہی رہے۔شفا خانہ نور میں آپ ڈسپنسر تھے۔بعدہ آپ نے ریتی چھلہ کے قریب احمد یہ میڈیکل ہال کھول لیا تھا اور دارالرحمت میں قیام تھا۔آپ زیارت قادیان کے لئے ۲۷ جولائی ۱۹۶۳ء کو قادیان آئے اور یکم اگست کو واپس تشریف لے گئے۔اس عرصہ میں مجھے استفادہ کا موقعہ ملا۔( پھاٹک) بیان مولوی صاحب۔حضرت اقدس کے عہد مبارک میں مشرقی پھاٹک موجود نہیں تھا۔ہر دو طرف پاتھی خانے تھے۔درمیان کی جگہ آمد و رفت کے لئے خالی تھی۔البتہ وسطی اور غربی پھاٹک تھے۔جو چوبی تھے نہ کہ گول پختہ گیٹ جو اس وقت بنے ہوئے ہیں۔یہ خلافت ثانیہ میں حضرت میر محمد الحق صاحب نے اپنی ہیڈ ماسٹری کے دور میں تعمیر کرائے تھے جبکہ قریباً سارا مدرسہ آپ نے غلافی کرا دیا تھا۔شمال کی طرف حضرت اقدس کے زمانہ میں وضوخانہ ( نمبر ۱۷) اور کمرہ نمبر ۱۹ کے درمیان خالی جگہ تھی۔نہ پھاٹک تھا نہ دروازہ۔(نمبر ۱ ۲) یہ دونوں کمرے بطور بورڈنگ استعمال ہوتے تھے۔بیان مولوی صاحب) نمبر ا جو اس وقت دو حصوں میں منقسم ہے اس کے اور نمبر کی درمیانی دیوار میں بھی آمد و رفت کے لئے ایک یا زیادہ دروازے تھے۔( موقعہ پر دیکھنے سے دروازوں کے نشان نہیں ملے شاید لپائی وغیرہ سے چھپ گئے ہوں۔مؤلف ) پیمائش کمرہ نمبر ا شرقا غربا (باہر سے اڑتالیس فٹ (اندر سے ) پینتالیس فٹ۔شمالاً جنوبا ( با ہر سے ) چودہ فٹ۔کمرہ نمبر۲: شرقا غربا (اندر سے ) پنتالیس فٹ۔شمالاً جنوبا ( با ہر سے ) پندرہ فٹ۔نمبرا کی شمالی اور نمبر ۲۰ کی مغربی دیوار میں اس وقت غلافی ہیں۔باقی سب دیوار میں ابھی تک خام ہیں اور اولین حالت میں ہیں۔(۳) بیان بھائی محمود احمد صاحب۔یہ بہت مختصر سی دکان تھی جواب موجود نہیں۔نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کچھ عرصہ یہاں دکان کرتے رہے۔چنانچہ میں نے آپ سے اس دکان سے ایک ولایتی استرا