اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 638 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 638

۶۴۴ انقباض کا ہونا درست نہیں ہے ان کی اس بات کو ہم بسر و چشم تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ استحیاء کے مذکورہ بالا معنوں کے خدائے عزوجل کی طرف نسبت کرنے سے یہ لا زم بھی آتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کثرت کے ساتھ الفاظ اخس اور اشرف اور ادنیٰ اور اعلیٰ پر بولے جاتے ہیں۔اور ان دونوں میں ان معنوں کے مصداق ایک رنگ کے ہر گز نہیں ہوتے بلکہ ان میں اس قدر عظیم الشان تفرقہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں آپس میں ہم رنگ اور ہم مثل اور مشابہ بالکل نہیں ہوتے تو جب یہ حال ہے کہ بہت سی مثالوں میں ظاہر کیا گیا ہے تو پھر یہاں پر کس طرح یہ لازم آوے گا۔خصوصاً جبکہ خداوند کریم نے صاف صاف اپنی نسبت بتا دیا ہوا ہے کہ لیس كَمِثْلِهِ شَيْ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِى السَّمَاء وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِیم۔(اس کی مانند نہ زمین میں کوئی چیز ہے اور نہ آسمان میں اور وہ کامل سننے والا اور جاننے والا ہے ) اور باوجود اس کے پھر بعض ایسے صفات وغیرہ کو اپنی طرف نسبت بھی کرتا ہے جو کہ اس کے سوا مخلوق کی طرف بھی منسوب ہوتے ہیں تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نسبت میں اشتراک ہونے سے تشابہ اور تماثل نہیں لازم آتا۔ورنہ تو پھر اپنے صریح قول لَيْسَ كَمِثْلِهِ شی کے خلاف خود ایسے صفات وغیرہ کو اپنی طرف کیوں نسبت کر دیا جو کہ مخلوق کی طرف بھی نسبت ہوتے ہیں۔حالانکہ اس سے تشابہ حاصل ہوتا تھا۔مثلاً یہاں پر بھی ایک طرف تو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی فرمایا اور پھر اس کے اخیر پر اپنے آپ کو سمیع اور علیم قرار دیا۔حالانکہ انسان کو بھی خود ہی سمیع وغیرہ فرمایا ہوا ہے۔پس جہاں تک میرا خیال ہے یہ اس لئے کہا ہے تا کہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہو جائے کہ اس سے تشابہ لازم نہیں آتا۔اس لئے میں ایک طرف اپنے آپ کو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی بتا تا ہوں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو سمیع کہتا ہوں۔اب میں ناظرین کو اس کی جڑ بتا تا ہوں کہ یہ غلطی کہاں سے لگی ہے تو واضح ہو کہ اہل لغت کا یہ طریق ہے کہ عرف عام میں جہاں پر یا جس چیز پر ایک لفظ زیادہ بولا جاتا ہے وہ اس کی کیفیات اور خصوصیات کو اس لفظ کے معنوں میں ذکر کر دیتے ہیں۔مثلاً لفظ کا لفظ ہے جو کہ عرف عام میں عموماً انسانوں کے بولے ہوئے لفظ پر بولا جاتا تھا تو اہل لغت نے انسانی خصوصیت کو اس کے معنوں میں ملحوظ رکھ کر یہ کہ دیا کہ اللفظ ما يتلفظ به الانسان ( لفظ وہ ہے جس کو انسان بولتا ہے ) حالانکہ اوروں کے بولے ہوئے کلمہ کو بھی لفظ ہی کہا جاتا ہے۔اسی طرح انسانی صفت مثل سمع رؤیت بطش قبض بسط وغیرہ کے معنے کے بیان میں کیفیات انسانی کو لے لیتے ہیں بلکہ عموماً ان کے معنی بیان کرنے کے وقت اسی طریق کو بیان کر دیتے ہیں۔جس سے وہ معنی انسان میں حاصل ہوتے ہیں مثلا سمع کی تعریف میں یہ بیان کر دینا کہ وہ ایک آواز ہے جو کہ کان کے اندر ایک پٹھے میں اس طور سے پیدا ہوتی ہے کہ خارجی ہوا میں جو آواز سے متکلیف ہوتی ہے۔لہر پیدا ہوکر کان کے طبلہ تک پہونچتی ہے اور طبلہ کے ٹھکورنے سے سماع کے پٹھے میں وہی آواز حاصل ہو جاتی ہے یا رحمت کے معنوں میں کہا کرتے