اصحاب احمد (جلد 5) — Page 632
۶۳۸ کے۔لیکن اگر فرض کیا جائے کہ تم کو اشتباہ ہو گیا ہے تو ان اصول کے ذریعہ سے تم فیصلہ کر لو کہ خدا اپنی ذات وصفات اور افعال میں بے مثل ہے لہذا اس کے ان تینوں امروں میں سے کسی ایک کی بھی کبھی کوئی مثل نہیں لا سکتا۔اور انسان اپنی ذات وصفات و افعال میں مثل رکھتا ہے لہذا اس کے ہرسہ امور میں سے ہر ایک کی مثل کثرت سے لا سکتے ہیں۔اور یہ کہ خداوند کریم جو کرتا ہے وہ انسان نہیں کر سکتا۔اور جو انسان کرتا ہے وہ خداوند تعالیٰ نہیں کرتا۔پس ان سب اصول کے مطابق جو امتیاز اور شناخت کا معیار ہے وہ اس کی مثل کالا نا اور نہ لانا ہے۔پس تم سب کی یا کسی ایک سورۃ کی مثل لاؤ اور اس میں اپنے سب مدد گاروں سے بھی مددلواور منصف بھی کوئی اپنا ہی بنالو۔پس اگر تم اس کی کوئی مثل نہ لا سکو تو یقینا سمجھ لو کہ یہ اسی خدائے وحدہ لاشریک لہ کا کلام ہے۔جو اپنی ذات وصفات اور افعال میں ليس كمثله شي في الارض ولا في السماء ۹۲ (زمین و آسمان میں اس کی مثل کوئی شے نہیں ہے ) اور کیا معجزہ ہونے کے لحاظ سے اور کیا دلیل ہونے کے لحاظ سے اس کا جواب اور اس کی تردید فقط ایک ہی طریق سے ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اس کی یا اس کی کسی سورۃ کی مثل لے آویں اور بس اور اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔اور ساری دنیا گواہ ہے کہ چودھویں صدی تک کے اربوں مخالفوں نے اپنے عجز کے ہاتھوں سے اس معجزہ اور اس دلیل کی صداقت اور قرآن مجید کے منجابب اللہ اور لاریب فیہ ہونے پر دستخط کر دئے ہیں لیکن ان لوگوں کے دل و دماغ اور ایمان وانصاف پر سخت افسوس ہے کہ ایسے معجزہ اور ایسی دلیل اور برہان قاطع کے موجود ہوتے ہوئے بھی قرآن مجید سے منکر اور دید اور انجیل جیسی کتابوں کے قائل ہیں۔اعجاز قرآن کی مماثلت کس امر میں مطلوب ہے رہا یہ کہ وہ سورۃ کسی امر میں قرآن مجید کی مثل ہو تو اس میں بہت سے اقوال ہیں۔اول یہ کہ یہ قص ماضیہ پر مشتمل ہے۔حالانکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی تھے۔دوم یہ کہ اپنے مطیعوں کے لئے وعدوں اور بشارتوں پر اور اپنے نافرمانوں کے لئے وعیدوں اور انذاروں پر مشتمل ہے اور وہ وعدے اور وعید انسانی طاقت سے بالاتر ہیں۔سوم یہ کہ یہ کتاب الہیہ سابقہ کے مطالب عالیہ پر مشتمل ہے۔حالانکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی تھے۔چہارم یہ کہ یہ جوامع الکلم پر مشتمل ہے۔پنجم یہ کہ اغبار غیب پر مشتمل ہے۔ششم یہ کہ تا ثیر بلیغ رکھتی ہے جو کہ انسانی کلام میں کیا کسی دوسری آسمانی کتاب میں بھی نہیں ہے۔ھفتم یہ کہ یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہے جو کہ انسانی قدرت سے باہر ہے۔ہشتم یہ کہ ایسا نہیں کہ ہر ایک سورۃ میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس کی وجہ سے اس کی مثل انسان نہیں بنا سکتا۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ