اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 631 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 631

۶۳۷ کریم کے افعال میں تماثل اور تشابہ نہیں ہے۔یعنی جو بندہ کرتا ہے وہ خدا نہیں کرتا۔اور جو خداوند تعالیٰ کرتا ہے وہ بندہ نہیں کر سکتا۔مثلاً انسان کپڑے بناتا ہے تو خدا وند تعالیٰ وہ نہیں بناتا۔اور خداوند تعالیٰ روئی بناتا ہے تو انسان ہرگز وہ نہیں بنا سکتا۔انسان روٹی پکاتا ہے تو خدائے عزوجل کبھی روٹی نہیں بناتا اور خدواند تعالی گیہوں بناتا ہے جس کو انسان کبھی نہیں بنا سکتا۔رفع اشتباہ کے تین اصول تو چونکہ افعال صفات کے آثار ہوتے ہیں اور صفات ذات کے آثار ہوتے ہیں۔لہذا مذکورہ بالا مشاہدہ سے ثابت ہوا کہ انسان کے صفات اور ذات خدا تعالیٰ کی صفات اور ذات کی مانند نہیں۔اور خدائے عزوجل کے صفات اور ذات انسان کے صفات اور ذات جیسے نہیں ہیں اور جہاں کہیں بظاہر صفات میں اس کے خلاف کا شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔وہاں پر جب بجائے سرسری نظر کے کسی قدر نظر کو گہرا کر دو تو یہ شبہ رفع ہو جاتا ہے اور دونوں میں بین امتیاز نظر آ جاتا ہے۔مثلاً انسان عالم ہے اور خدائے عز وجل بھی عالم ہے لیکن خدا وند تعالیٰ تو عالم غيب السموات والارض ہے اور انسان بے چارہ اپنے جسم کے اندر کی چیزوں کو بھی نہیں جانتا۔اسی طرح انسان بھی سننے والا ہے اور خداوند تعالیٰ بھی سنے والا ہے پر دونوں میں بین امتیاز ہے تو جب ہمارے ہاتھ میں نہایت سچے اور واضح اور بڑے پکے یہ تین اصول ہیں تو اب اگر کسی امر کی نسبت یہ اشتباہ واقع ہو گا کہ یہ کس کا ہے تو ان تین اصول کی معرفت ہم بہت جلد اور نہایت عمدگی سے صحیح طور پر فیصلہ کر لیویں گے۔اور وہ فیصلہ یوں ہوگا کہ ہم دیکھیں گے کہ اس امر کی مثل کسی اور انسان میں ملتی ہے یا نہیں اگر مل گئی یامل سکی تو ہم یقین کر لیں گے اور ہمارا یہ یقین بالکل صحیح ہوگا کہ وہ امر خدائے عزوجل کا نہیں بلکہ انسان کا ہے اور اگر نہ ملی اور نیل سکتی ہو تو پھر یقین کر لیویں گے اور علیٰ درجہ البصیرت کہیں گے کہ یہ امر خدائے عزوجل کا ہے اسی طرح تیسرے قاعدہ کے مطابق جب دیکھنا ہو تو بھی یونہی دیکھا جائے گا کہ اس کی مثل انسان کر سکتا ہے یا اس میں ہے تب تو یقیناً وہ امر انسان کا ہے۔ورنہ تو پھر ضرور اور یقیناً خدائے وحدہ لاشریک لہ کا ہے۔اور یہ دلیل جس کو ہم بیان کر رہے ہیں۔انہی اصول پر مبنی کی گئی ہے جو کہ بالکل بچے اور یقینی ہیں یعنی اگر تمہیں اس کتاب کی نسبت شک ہے کہ یہ خدائے وحدہ لا شریک لہ کی ہے یا کہ محمدؐ کی ہے جو کہ خود پکار پکار کر کہتا ہے ما انا الأبشر مثلكم میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں ) تو اول تو بات ہی درست نہیں کہ تمہیں اس میں شک ہے۔کیونکہ جس طرح خدائے یکتا کے اور امور میں شک نہیں ہو سکتا کہ یہ خدا کے ہیں یا کسی انسان کے ہیں کیونکہ ان امور میں خود ایسے امور موجود ہیں جو کہ اس بات کی بین شہادت دیتے ہیں کہ یہ خدائے حکیم وقدیر کے ہیں نہ انسان عاجز