اصحاب احمد (جلد 5) — Page 616
۶۲۲ جلسہ ہوا تو ایک دن حضرت اقدس مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام نے (فداہ ابی وامی وروحی و مالی و عرضی ) سورہ بقرہ کے اسی پہلے رکوع کا وعظ فرمایا اور هُدًى لِلْمُتَقِینَ پر ایسی تقریر فرمائی کہ جس سے علاوہ سوال مذکور کے پورے طور پر حل ہونے کے علوم حقہ اور معرفت صحیحہ کا دروازہ کھل گیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصّلواة وَالسَّلَامُ عَلَى سَيّدِ المُرْسَلِين خَاتَمَ النَّبِيِّين وآلهِ وخُلَفَائِهِ الرَّاشِدِين المَهْدِيِّين تقریر حضرت مسیح موعود سے حل آیت تقریر کا خلاصہ یہاں پر درج کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی ہدایت اس پر بند نہیں ہے که چند معدودہ امور پر ایمان بالغیب لانے کا حکم لاوے اور نماز، زکوۃ، حج ،صوم وغیرہ چند امور کے کرنے کا حکم دے دے۔اور چند معدودہ امور سے منع کر دے۔اگر کوئی شخص۔۔۔(ایسا) خیال کرتا ہے تو وہ یقیناً قرآن۔۔۔۔۔۔مجید سے نا آشنا ہے۔اور وہ قرآن مجید کی سخت بے قدری اور ہتک کر رہا ہے۔اور قرآن مجید کو بے مثل کتاب ہونے کے اعلیٰ مقام سے اتار کردید اور توریت و انجیل کے مرتبہ پر اتار کر قرآن مجید کی عظمت کو خاک میں ملاتا ہے۔نیز۔۔۔اس کو ماننا پڑے گا کہ خواص امت اور خصوصاً آنحضرت کے لئے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا عبت تھی۔کیونکہ جب قرآن مجید کی ہدایت کا خلاصہ یہ ہوا کہ چند امور پر اعتقا در کھا جائے اور چند احکام معلوم ہو جا ئیں تو جب کسی شخص کو یہ حاصل ہوا تو پھر اس کے لئے اهْدِنَا کی دعا محض عبث ہوئی لیکن ظاہر ہے کہ ایسا خیال تو بالکل غلط اور سخت غلط ہے۔پس ثابت ہوا کہ قرآن مجید کی ہدایت کو مذکورہ بالا امور پر محصور سمجھنا بالکل غلط ہے بلکہ قرآن مجید کی ہدایت کا دائرہ اس سے بہت وسیع ہے اس قدر ہدایت تو دنیا کے سب مذاہب میں موجود ہے مثلا ھدی للمتقین کے بعد جو متقی کی تفسیر بیان ہوئی ہے وہ اسی قدر ہے کہ ایمان بالغیب ہو تو ہر ایک مذہب میں بعض غیب امور پر ایمان رکھنا پڑتا ہے۔پھر اس کے بعد بیان ہوا ہے کہ اقامة الصلواۃ ہوتو ہر ایک مذہب والے کچھ نہ کچھ پوجا کیا کرتے ہیں۔پھر ان کے بعد ہے کہ ہمارے دئے ہوئے سے کچھ خرچ کریں۔اور دنیا جانتی ہے کہ ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خرچ بھی کرنا پڑتا ہے۔وغیر ذالک۔پس اگر قرآن مجید کی ہدایت اسی قدر ہے تو قرآن مجید اور اور کتابوں میں کچھ فرق نہیں ہے مگر اس قدر کہ کوئی کہہ دے کہ قرآن مجید نے ان کا اچھا طریق بیان کیا۔اور اوروں نے ناقص۔لیکن جیسا ایک مسلمان کا یہ دعوئی ہے ویسا ہی ایک آریہ وید کی نسبت دعوی کرتا ہے۔اور یہودی توریت کی نسبت۔پس اس صورت میں قرآن مجید اور باقی کتابوں میں کچھ متعد بہ اور بین فرق نہیں رہتا۔پس اس ساری تحقیق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی