اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 617 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 617

۶۲۳ ہدایت مذکورہ بالا امور میں ہرگز محصور نہیں ہے بلکہ ان سے وسیع ہے۔انعامات الہیہ غیر محدود ہیں اور فطرت انسانی دائما ترقی پسند ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید نے ایسا خدا پیش کیا ہے جو قادر مطلق ہے اور اس کے انعامات کے خزانے غیر متناہی ہیں جو کہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور نہ انسان کی ترقی طلب فطرت ترقی کے کسی زینہ پر ٹھہر سکتی ہے۔اگر کوئی یہ خیال کرے کہ خدا کے انعام کسی حد پر پہنچ کر ختم ہو جاتے ہیں۔اور اس سے آگے خدا میں دینے کی طاقت یا گنجائش نہیں ہوتی تو اس نے اسلام کے خدا بلکہ یوں کہو کہ حقیقی خدا کو ہرگز نہیں پہچانا۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ترقی کی فلاں حد تک پہنچ کر آگے انسان میں ترقی کی قابلیت نہیں رہتی یا خواہش نہیں رہتی تو وہ انسانی فطرت سے نا آشنا ہے۔اور وہ نسل انسانی کے ہم عمر تجربہ اور صحیح مشاہدات کے خلاف کرتا ہے۔۔۔حضرت سید المرسلین خاتم انہیں اپنی ساری عمر میں اهْدِنَا کی دعا مانگتے رہے۔اور آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اهْدِنَا کی دعا ترک کر دیں۔اور ظاہر ہے کہ جب خاتم الانبیاء باجود اس رفعت شان کے اھدِنَا کی دعا مانگتے ہیں جو کہ صاف بتاتی ہے کہ ابھی کمالات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی کچھ مدارج کمالات ایسے بھی ہیں کہ جن کی تحصیل کی را ہیں مانگی جارہی ہیں تو اور دوسرا کون ہوایا ہے یا ہوگا کہ جس نے ان مدارج کو ختم کیا تھا یا کیا ہے یا کرے گا اور قرآن مجید چونکہ اکمل کتاب ہے اور سب صداقتوں کی جامع اور مہیمن ہے لہذا وہ ہر ایک مرتبہ کمال کے بعد دوسرے درجہ کی طرف کامل ہدایت کرتا ہے اور کوئی درجہ کمال ایسا نہیں کہ جس کی طرف یہ را ہنمائی نہ کرتا ہو۔اور ان بے شمار مدارج میں سے جو کوئی کچھ حاصل کرتا ہے تو اس سے آگے کے لئے وہ قرآن مجید کی ہدایت کا محتاج ہوتا ہے۔اور یہ نہیں کہ پیراں نے پرند مریداں سے پرانند کے مطابق ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں۔بلکہ قرآن مجید خود یہ دعویٰ کرتا ہے چنانچہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں بھی یہی دعویٰ ہے کہ متقیوں کے لئے ہر ایک مرتبہ کمال کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے اور پھر محض دعویٰ ہی دعویٰ نہیں بلکہ ہزار ہا لوگوں کو اعلیٰ مدارج پر پہنچا کر اپنے لئے عملی شہادت قائم کی ہے اور پھر یہ نہیں کہ پہلے ایسا کیا کرتا تھا اور اب عملی شہادت قائم کرنے سے قاصر ہے۔اب بھی ویسی ہی عملی شہادت تیار کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔پس اس تحقیق کے مطابق هُدًى لِلْمُتَقِینَ کا یہ مطلب ہے کہ خداوند کریم فرماتا ہے کہ یہ کتاب یہی نہیں کہ اور کتابوں کی طرح اس معنی سے متقی بناتی ہو کہ غیب پر ایمان لے آئیں اور نماز کو قائم کریں اور اللہ کے دئے ہوئے سے کچھ خرچ کریں۔بلکہ یہ ایسے لوگوں کو بھی ہدایت کر کے آگے لے جانا چاہتی ہے۔چنانچہ ایمان بالغیب سے مشاہدہ تک پہنچاتی ہے۔مثلاً پہلے خدا پر ان کا ایمان بالغیب تھا تو یہ قرآن ایسی راہ بتاتا ہے کہ جس