اصحاب احمد (جلد 5) — Page 608
۶۱۴ مگر خاص ایام کے بعد ہر قوم میں عورت اپنی زیب و زینت اختیار کرتی ہے اور یہی اس کے جذ بہ کا اظہار ہے۔پس عورت کے اس طبعی جذبے کا تقاضا تو یہی ہے کہ ایسی حالت پیش آنے سے پہلے اس جذبہ کو پورا کرنے کا سامان ان ایام کے آنے سے پیشتر ہی کرے۔اور وہ سامان نکاح ہے۔پس پہلے خاوند کے خاندان کا جذ بہ اور اس آزاد شدہ عورت کا جذبہ آپس میں بالکل متضاد ہیں وہ تو چاہتا ہے کہ یہ عورت اب شادی نہ کرے۔اور یہ چاہتا ہے (عورت کا جذبہ ) کہ خاص ایام کے آنے سے پہلے پہلے یا ان کے ختم ہونے سے پہلے یہ نکاح کر لے۔لیکن وہ خدا جوان دونوں کا رب ہے اور دونوں کے جذبات کو جانتا ہے۔اور قدر کرتا ہے کیونکہ اس نے ہی ان میں یہ جذبات رکھے ہیں۔اس نے خاوند کے خاندان کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کو حکم دیا ہے کہ تم اپنے جذبہ کو پہلے ایام میں اس قوم کی وجہ سے جس کے ساتھ پہلے تمہارا تعلق تھا روک دو۔پھر دوسرے ایام میں پیدا ہونے والے جذبہ کو بھی حکم دیا کہ روک دو۔پھر تیسرے ایام میں پیدا ہونے والے جذبہ کو بھی حکم دیا کہ روک دو جب تین دفعہ اس نے اپنے اس مغلوب کن جذبہ کو اپنے مولیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے پہلے خاوند کے جذبات پر شار کر دیا تو خداوند تعالیٰ نے اب اس کے جذبہ کا بھی پاس کیا اور اس کو اجازت دی اور پہلے خاوند کو حکم دیا کہ اب اس کو نکاح سے مت روکو اس نے تمہارے جذ بہ کا پورا لحاظ کیا ہے۔آزادی دوطرح سے حاصل ہوتی ہے خاوند زندہ ہے اور اس نے عورت کو طلاق دے دی یا عورت نے خود خلع کرایا۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ قدرت نے اس کے خاوند کو وفات دے دی ان دونوں صورتوں میں ایک فرق ہے۔پہلی صورت میں خاوند اس کو خود جدا کرتا ہے اس واسطے اس کے خاوند کے خاندان کا مذکورہ جذبہ اتنا تیز نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے رشتہ دار نے خود اس کو علیحدہ کیا ہے لیکن دوسری صورت میں جبکہ قدرت نے اس خاوند کو وفات دے کر اس کو آزاد کر دیا ہے تو اس صورت میں ان کا مذکورہ جذ بہ بہت تیز ہونا چاہئے اور ان کا مذکورہ جذ بہ روکنے کے واسطے کوئی عذر سامنے پیش نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو نہی خاوند فوت ہوا تو اس وقت سے خاوند تلاش کرنے لگ پڑے گی۔اس واسطے شریعت نے یہاں قوم کے جذ بہ کا لحاظ کیا ہے۔اور اس وقت تک ہی عورت کو اور نکاح کرنے کی اجازت نہیں کہ جس وقت کے بعد وہ اپنے جذ بہ مذکورہ کو جو ایام خاص میں پیدا ہوتا ہے دبانے سے معذور ہو چکی ہے اور اس معذوری کا پتہ اس حدیث سے لگتا ہے کہ حضرت عمر اپنے خلافت کے زمانہ میں تجسس حالات کے واسطے جب مدینہ میں پھر رہے تھے تو انہوں نے ایک گھر سے ایک عورت کی زبان سے ایک ایسا شعر سنا کہ جو اس جذبہ کا اظہار کر رہا تھا تو حضرت عمر اس عورت کے پاس چلے گئے اور آپ نے اس سے دریافت کیا۔اس نے بتایا کہ میرا خاوند ایک عرصہ سے جہاد پر گیا ہوا ہے۔اور مجھے اس کی جدائی کی تکلیف ہے تو حضرت عمرؓ اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے اور