اصحاب احمد (جلد 5) — Page 40
۴۰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق دوسرا خواب سہارن پور میں آپ نے خواب دیکھا کہ آپ گاؤں کی مسجد کی طرف گئے۔راستہ میں والد صاحب اور بہت سے اور آدمی مسجد کی طرف سے آتے ہوئے نظر آئے۔آپ نے پوچھا کہ آپ کہاں گئے تھے یہ نماز کا وقت تو ہے نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک بزرگ آئے تھے۔انہیں رخصت کر کے واپس آ رہے ہیں۔وہ سب آگے چلے گئے۔آپ کو خیال آیا کہ میں بھی اس بزرگ سے ملوں۔چنانچہ جس طرف بزرگ گئے تھے آپ بھی اس طرف گئے۔کچھ فاصلہ پر نظر آیا کہ ایک آدمی آگے جا رہا ہے اور کوئی ساٹھ کے قریب آدمی اس کے پیچھے ہیں اور وہ گھوڑے کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہیں۔آپ نے خیال کیا کہ میں کس طرح ان تک پہنچ سکوں گا۔میں آہستہ چلتا ہوں اتنا تیز چل نہیں سکتا۔مگر عجیب بات ہے کہ ان کی تیزی اور آپ کی آہستگی کے باوجود درمیانی مسافت کم ہونے لگی۔چنانچہ ان سے جاملنے کا آپ نے پختہ ارادہ کر لیا۔چھ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ پانی کا چشمہ اور اس کے پاس بڑی چٹان ہے وہاں جا ملے۔آپ کے پہنچتے ہی باقی آدمی راستہ میں کھڑے ہو گئے۔اس بزرگ نے اور ساتھ ہی مولوی صاحب نے چشمہ سے وضو کیا اور اس بزرگ کی اقتداء میں دو نفل پڑھے۔اس کے بعد مولوی صاحب نے ساری سرگذشت سُنائی کہ نقشبندی خاندان میں بیعت سے کیا حاصل ہوا اور بتایا کہ آگے کوئی ایسی رکاوٹ آگئی ہے کہ میں مختلف صوفیوں کے پاس گیا ہوں مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔اس بزرگ نے پہلے دعا کی اور پھر کہا کہ تم درود بہت پڑھا کرو اس سے تمہیں فائدہ ہوگا۔آپ نے عرض کی کہ جن صوفیوں کے پاس میں جاتا رہا ہوں وہ بھی مجھے کچھ بتاتے رہے ہیں۔جب ان پر لمبا عرصہ گذرنے تک عمل کرنے سے فائدہ نہیں ہوتا تھا تو میں اسے چھوڑ دیتا تھا۔یا یوں کہنا چاہیئے کہ وہ خود ہی مجھ سے چھوٹ جاتے تھے۔اس بزرگ نے کہا تم رات کو سوتے وقت درود پڑھتے سو جایا کرو۔پھر تم سے یہ نہیں چھوٹے گا۔وہ بزرگ وہاں ہی بیٹھے رہے اور مولوی صاحب نے جیب سے کاغذ نکالا اور ان لوگوں سے کہا کہ شاید مجھے پھر اس بزرگ کے پاس آنے کی ضرورت پیش آئے اس لئے ان کا نام و پتہ لکھوا د ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تو صرف حضرت صاحب کہا کرتے ہیں اور نام نہیں لیتے۔آپ نے نام پوچھنا ہے تو اس سے پوچھو۔مولوی صاحب پھر اس بزرگ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے آپ کے ساتھوں سے آپ کا نام و پستہ دریافت کیا تھا تا کہ پھر آنے کی ضرورت ہو تو آ سکوں لیکن انہوں نے کہا ہم تو ادب کی وجہ سے حضرت صاحب کہتے ہیں اس لئے اگر آپ نے ان کا نام پوچھنا ہے تو ان سے آپ خود پوچھ لیں۔چنانچہ آپ کے دریافت کرنے پر اس بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تم اس کاغذ پر جس قدر لکیریں ڈال سکتے ہو ڈال لو اور پڑھو وہ میرا نام ہوگا۔مولوی