اصحاب احمد (جلد 5) — Page 41
۴۱ صاحب نے خیال کیا کہ اس سے تو ان کی کرامت بھی معلوم ہو جائے گی۔اس لئے کاغذ کو نظر سے اوجھل کر کے اس پر بے تحاشا لکیریں ڈالنی شروع کیں اور اس قدر ڈالیں کہ آپ کو خیال ہوا کہ اب کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہو گی۔اب اس بزرگ کے کہنے پر آپ نے پڑھا تو دو انگل موٹی قلم کے ساتھ سنہری سیاہی سے نہایت عمدہ فارسی خط کے ساتھ غلام احمد لکھا ہوا تھا۔اس کے بعد بیدار ہو گئے لیکن صبح آپ کو شک پیدا ہو کہ خواب میں نام غلام احمد تھا یا غلام محمد اور زیادہ طبیعت اسی طرف مائل ہوئی کہ غلام محمد تھا۔آپ نے تحقیق شروع کی کہ کوئی غلام محمد نام بزرگ مشہور ہے لیکن ہندوستان میں معلوم نہ ہوا تو حاجیوں کے ذریعہ آپ نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت تحقیق کروائی لیکن معلوم نہ ہوا۔صرف ایک صوفی نے اتنا بتایا کہ مکھڈ میں غلام محمد نام ایک بزرگ تھے لیکن اب وہ فوت ہو چکے ہیں شاید ان کی روحانیت متمثل ہوئی ہو مگر اس سے آپ کی تسلی نہ ہوئی۔اس خواب سے آپ کے دل پر یہ گہرا اثر تھا کہ اس نام کے بزرگ سے ضرور ملاقات ہوگی اور اس سے فائدہ ہوگا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تیسرا خواب چند ماہ بعد آپ نے ایک اور خواب دیکھا۔آپ بالعموم اہم اور سچا خواب دیکھیں تو اس میں کوئی محمد صادق نام شخص ہوتا ہے۔اس خواب میں اپنے بڑے بھائی سید محمد صادق کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ویسی ہی پنسل اور کاغذ ہے کہ جیسی پہلی خواب میں آپ کے پاس تھی اور ملتے ہی کہتے ہیں کہ میں نے جفر ریل میں اس قدر کمال پیدا کیا ہے کہ جو تم نے خواب میں کوئی بزرگ دیکھا تھا اور اس کے نام میں تمہیں اشتباہ پیدا ہو گیا ہے میں اس علم کے ذریعہ سے بتا سکتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کون سا نام ہے۔چنانچہ انہوں نے اس کاغذ پر پنسل سے تین سطریں نقطوں میں ڈالیں۔پہلی گیارہ نقطوں کی تیسری بھی قریباً اتنی ہی اور درمیانی کوئی پندرہ نقطوں کی اور اس کے نیچے اسی قلم اور اسی سیاہی کے ساتھ اسی خط پر غلام احمد نام لکھا گیا اور وہ آپ کو کہتے ہیں کہ تمہیں غلطی لگی ہے۔وہ نام غلام احمد ہے غلام محمد نہیں جو خواب آپ نے لاہور میں دیکھا تھا۔اس سے ایسا ابتلا ء پیش آیا کہ با وجود اس قدر وضاحت کے آپ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔حضور کے متعلق چوتھا خواب اس کے جلد بعد آپ ایبٹ آباد آگئے۔وہاں آپ نے خواب دیکھا کہ ایک دریا مغرب سے مشرق کی طرف بہ رہا ہے اور اس کے دائیں کنارہ پر ایک دیوار قریباً سوگز اونچی اس کے ساتھ برابر چلی جاتی ہے۔دیوار کے اوپر ایک نہر مشرق سے مغرب کی طرف بہہ رہی ہے اور اس کے کنارہ پر ایک نالی ہے اس کے آگے ایک