اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 39 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 39

۳۹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اولین ملاقات رمضان کی ابتداء میں دیو بند جاتے ہوئے مولوی صاحب لدھیانہ اتر پڑے اور اپنے ہم جماعت مولوی ابراہیم کے پاس گئے جو کہ شہزادوں کی مسجد کے مدرسہ میں ملازم ہو گئے تھے۔یہ مولوی ابراہیم بعد میں لائل پور کے قریب ایک قصبہ کی جامع مسجد کے امام بن گئے تھے۔مشہور مخالف احمدیت مولوی ابراہیم سیالکوٹی اور ہیں۔انہیں علم تھا کہ جس زمانہ میں وہ آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔آپ حضرت صاحب کی نسبت تحقیق کیا کرتے تھے۔انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہی دوسری بات یہ کہی کہ شاہ صاحب! آپ کے وہ مرزا صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔آپ نے کہا کہ پہلے میں انہیں ملوں گا پھر آپ کے پاس بیٹھوں گا۔اس نے کہا کہ میں تو یہاں مولوی ہوں۔آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ہاں آپ کے ساتھ ایک طالب علم بھیج دیتا ہوں۔وہ بھی آپ کے ساتھ اس مکان کے قریب نہیں جائے گا لیکن دور سے آپ کو مکان کا پتہ بتا دے گا۔چنانچہ طالب علم ساتھ ہو لیا اور اس نے مکان کی گلی کے سرے پر ٹھہر کر بتایا کہ وہ نیا دروازہ اسی مکان کا ہے۔اس کے اندر چلے جائیں۔آپ جب اس دروازہ کے اندر گئے اس وقت حضرت صاحب باہر نکل رہے تھے۔کیونکہ لاہور سے دو آدمی ملنے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے مولوی صاحب سے پہلے حضور کی خدمت میں اپنے متعلق اطلاع بھیجی ہوئی تھی۔حضور ان کی ملاقات کے لئے تشریف لا رہے تھے۔چنانچہ وہ آدمی بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھے اور مولوی صاحب نے بھی آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔حضور بیٹھ گئے۔مولوی صاحب کوئی تین گھنٹے حضور کی خدمت میں بیٹھے رہے۔اس عرصہ میں حضور نے آپ سے کوئی بات نہیں کی نہ آنکھیں کھولیں۔ان دو آدمیوں میں سے ایک آدمی پاؤں دبارہا تھا اور دوسرا گورنمنٹ کی کچھ تعریف کر رہا تھا۔حضور صرف ہاں یا نہ کوئی لفظ فرما دیتے تھے اور کوئی بات نہیں کرتے تھے۔حضور اس وقت بہت ہی ضعیف معلوم ہوتے تھے۔لدھیانوی لنگی باندھی ہوئی تھی۔اس لنگی کے ساتھ مولوی صاحب نے حضور کی ایک ہی تصویر دیکھی ہے جو نشی سراج الدین یوپی والوں کے پاس ہے۔تین گھنٹہ کے بعد مولوی صاحب رخصت لے کر مصافحہ کر کے حضور سے رخصت ہوئے۔اس وقت حضور اتنے کمزور معلوم ہوتے تھے کہ مولوی ابراہیم نے واپس آنے پر جب یہ پوچھا کہ آپ کا ان کی نسبت کیا خیال ہے تو آپ نے کہا کہ اور خیال میں کیا بتاؤں وہ اتنے کمزور ہیں کہ اگر یہ کسی بیماری کا نتیجہ نہیں تو وہ چند دن کے مہمان ہی معلوم ہوتے ہیں۔☆ افسوس منشی صاحب چند سال قبل مغربی پاکستان میں بحالت ہجرت وفات پاچکے ہیں۔مؤلف