اصحاب احمد (جلد 5) — Page 580
۵۸۶ میں نہیں ہے۔بلکہ منقول کے مطابق اس کا حکم ہوگا۔اگر منقول جھوٹ بخش غیبت اور لغو محرکات ہیں تو وہ آواز بھی حرام ہوگی اور جھوٹ فحش اور غیبت کا حکم رکھے گی۔اس طرح اگر سارنگی ، باجہ، بینڈ وغیرہ سنا جاوے تو فونوگراف کی آواز کا اس وقت سارنگی اور باجہ وغیرہ کا حکم ہوگا۔اس واسطے کسی آواز کا مستقل حکم نہیں ہے۔بلکہ منقول منہ کو دیکھیں گے۔جس قسم کا وہ ہو گا اسی قسم کا حکم اس وقت فونوگراف پر لگادیں گے۔مثلاً اگر سارنگی و باجہ وغیرہ کی آواز ہے تو وہ منع ہوگی۔اور اگر اس میں قرآن مجید پڑھا جاوے یا نعت یا حضرت مسیح موعود کے اشعار ہیں یا کسی قسم کا لیکچر ہے تو جائز ہوگا۔پس جائز چیز کی نقل جائز ہے۔اور نا جائز کی نقل نا جائز ہے۔(۰۲-۰۴-۳۲) - خلیفہ وقت سے بھی پردہ لازم ہے استفتاء۔خلیفہ وقت سے عورتوں کا پردہ کرنا جائز ہے یا جائز اگر جائز ہے تو کیوں اور کس حد تک ؟ اور اس کی سند کیا ہے۔اگر نا جائز ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ فتوی: شرعاً خلیفہ وقت سے پردہ کرنا ایسے ہی ضروری ہے۔جیسا کہ دوسرے مسلمانوں سے۔سورہ نور کی آیت وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ۔۔پارہ ۱۳ (۳۶) سے ثابت ہے کیونکہ اس آیت میں جن لوگوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے ان میں خلیفہ وقت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ سے پردہ نہ کرو۔اور خلفائے راشدین سے بھی اس زمانہ کی عورتیں پردہ کرتی تھیں اس واسطے خلیفہ وقت سے پردہ کرنا ضروری ہے۔(۰۶۲۳۲-۱۴) (نوٹ) نہ معلوم یہ فتوی کس نے کیوں حاصل کیا۔کیونکہ نہ جماعت احمدیہ کے کسی خلیفہ کی طرف سے یہ اظہار کیا گیا کہ پردہ نہیں ہونا چاہئے۔نہ خواتین کی طرف سے عدم پردہ کا اظہار ہوا ہے اور طاہر ومطہر خلیفہ وقت خلاف شریعت کوئی امر نہیں کر سکتا۔البتہ منافق طبع لوگوں کی طرف سے ہر زمانہ میں مختلف رنگوں میں اپنے خبث باطن کا اظہار اور اس کی اشاعت ہوئی ہے۔(مؤلف) ۹ - لائف انشورنس کمپنی کی ملازمت -9 استفتاء لائف انشورنس کمپنی کی ملازمت جائز ہے۔فتویٰ : انشورنس گونا جائز ہے مگر اس میں ملازمت نا جائز نہیں۔جیسے بنکوں کا کاروبارسود کی وجہ سے ناجائز ہے مگر ملازمت ان کی بھی جائز ہے۔(۳۲-۰۷-۰۶)