اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 548 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 548

۵۵۴ لے جاؤ کہ وہاں کوئی احمدی نہ ہو اور نہ مرزا صاحب ہوں۔چنانچہ میاں محمد یوسف صاحب ایسا وقت دیکھ کر اسے مسجد مبارک میں لائے۔مگر قدرت خدا کہ ادھر اس نے مسجد میں قدم رکھا اور ادھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑ کی کھلی اور حضور کسی کام کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔اس شخص کی نظر حضور کی طرف اٹھی اور وہ بے تاب ہوکر حضور کے سامنے آ گرا اور اسی وقت بیعت کر لی۔“ ۱۲ حضرت منشی احمد جان صاحب کے متعلق اسی طرح آپ رقم فرماتے ہیں۔د بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ جب منشی احمد جان صاحب مرحوم لدھیانوی پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے تو حضرت صاحب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے جس طریق کو اختیار کیا ہے اس میں خاص کیا کمال ہے۔منشی صاحب نے کہا میں جس شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ بے تاب ہوکر زمین پر گر جاتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر نتیجہ کیا ہوا؟ منشی صاحب موصوف کی طبیعت بہت سعید اور ذہین واقع ہوئی تھی بس اسی نکتہ سے ان پر سب حقیقت کھل گئی اور وہ اپنا طریق چھوڑ کر حضرت صاحب کے معتقد ہو گئے۔حمد سیرۃ المہدی حصہ اول ( روایت اے ) یہ روایت در منثور تقریر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پر جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ء کے جز ۲۲ میں قدرے تغیر کے ساتھ مندرج ہے۔حضرت میاں محمد یوسف صاحب وفات پاچکے ہیں۔محمد سیرت المہدی حصہ اول ( روایت (۱۴۰) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تقریر والے مضمون در منثور میں بھی اسے درج فرمایا ہے۔( جز ۲۴) حضرت ممدوح سیرت المہدی میں اس روایت کے بعد رقم فرماتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرون اولیٰ کے بعد اسلام میں صوفیوں کے اندر توجہ کے علم کا بڑا چرچا ہو گیا اور اس کو روحانیت کا حصہ سمجھا گیا۔حالانکہ یہ علم علوم میں سے ایک علم ہے جسے روحانیت یا اسلام سے کوئی خاص تعلق نہیں اور مشق سے ہر شخص کو خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم اپنی استعداد کے مطابق حاصل ہوسکتا ہے اور تعلق باللہ اور اصلاح نفس کے ساتھ اس کا کوئی واسطہ نہیں لیکن چونکہ نیک لوگ اپنی قلبی توجہ سے دوسرے کے دل میں ایک اثر پیدا کر دیتے تھے جس سے بعض اوقات وقتی طور پر وہ ایک سرور محسوس کرتا تھا۔اس لئے اسے روحانیت سمجھ لیا گیا اور چونکہ فیح اعوج کے زمانہ میں حقیقی تقوی وطہارت اور اصلاح نفس اور تعلق باللہ بالعموم معدوم ہو چکا تھا اور