اصحاب احمد (جلد 5) — Page 547
۵۵۳ خواجہ کمال الدین صاحب کی مالی امداد حضور نے مولوی عبد الکریم صاحب ذریعہ ایک سو ا حباب کو تحریک کی کہ مقدمہ کرم دین کے لئے چندہ دیں اور ان کے ذمہ مختلف حیثیت کے مطابق رقم لگائی گئی۔چنانچہ ان میں میری بڑی پھوپھی کے لڑکے سید حیات علی شاہ بھی تھے اور حضور نے سنایا تھا کہ انہوں نے چالیس روپے بھیجے ہیں۔ایک دفعہ پیشی سے واپس آکر خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ میں اور میرے بھائی خواجہ جمال الدین صاحب دود وسور و پیر والد صاحب کو بھیجتے ہیں اور گھر کے اخراجات سے جو روپیہ بچتا ہے اس سے والد صاحب جائیداد خرید لیتے ہیں میں نے ٹھیکہ تو نہیں لیا کہ میں یہاں مقدمات میں مفت پیروی کروں اور میرا بھائی روپیہ بھیجتا رہے اور میں نہ بھیجوں۔یہ تمام چندہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جمع تھا اور وہی خرچ کرتے تھے۔اور اس وقت آٹھ صد روپیہ باقی تھا۔جو خواجہ صاحب نے اصرار کر کے مولوی محمد علی صاحب لے کر گھر بھیج دیا۔- قدرت الہی سے ایک بغیض کی بیعت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مردان کا کوئی آدمی میاں محمد یوسف صاحب مردانی کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے علاج کے واسطے یہاں قادیان آیا۔یہ شخص سلسلہ کا سخت دشمن تھا اور بصد مشکل قادیان آنے پر رضامند ہوا تھا مگر اس نے میاں محمد یوسف صاحب سے یہ شرط کر لی تھی کہ قادیان میں مجھے احمدیوں کے محلہ سے باہر کوئی مکان لے دینا اور میں کبھی اس محلہ میں داخل نہیں ہوں گا۔خیر وہ آیا اور احمدی محلہ سے باہر ٹھہرا۔اور حضرت مولوی صاحب کا علاج ہوتا رہا جب کچھ دنوں کے بعد اسے کچھ افاقہ ہوا تو وہ واپس جانے لگا۔میاں محمد یوسف صاحب نے اس سے کہا کہ تم قادیان آئے اور اب جاتے ہو۔ہماری مسجد تو دیکھتے جاؤ۔اس نے انکار کیا۔میاں صاحب نے اصرار سے اسے منایا تو اس نے اس شرط پر مانا کہ ایسے وقت میں مجھے وہاں بقیہ حاشیہ: اخویم مولوی عبدالمجید صاحب منیب ہلالپوری مربی ربوہ سناتے ہیں کہ یہ روایت سناتے ہوئے حضرت مولوی صاحب نے بڑے جلال سے فرمایا کہ آموں کا ٹوکرا نہیں تھا بلکہ خواجہ صاحب کا ایمان تھا جو نکل گیا تھا۔