اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 34 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 34

۳۴ حضرت مولوی صاحب کے عاشق معلوم ہوتے تھے کہ رات دن ان کے منہ سے ہر مجلس میں یہ بات نکلتی تھی کہ مولوی صاحب نے یوں فرمایا ہے۔ایک دفعہ مولوی محمد الدین کے اطلاع دینے پر مولوی سرور شاہ صاحب انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ میں حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کی تقریر سننے گئے۔آپ نے إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَام پر پورے چار گھنٹے تقریر کی۔تقریر کے بعد لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا۔حضرت مولوی صاحب مصافحہ بھی کرتے جاتے تھے اور مولوی سرور شاہ صاحب کی طرف بھی بڑھتے آتے تھے جو کہ آپ کے راستہ سے ایک طرف کچھ فاصلے پر کھڑے تھے اور آ کر آپ کو بغلگیر کیا اور زمین سے اٹھا لیا اور اپنے واقفوں سے کہا کہ یہ میرے دوست بلکہ عاشق کا بیٹا ہے۔اس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت مولوی صاحب آپ کو جانتے ہیں۔آپ نے حضرت مولوی صاحب سے اپنا تعارف نہیں کرایا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود کے متعلق پہلا خواب مولوی سرور شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تہجد میں دعا کیا کرتے تھے۔آپ نے خواب دیکھا کہ لکن خان کی مسجد میں جہاں مدرسہ نعمانیہ تھا اور آپ رہتے تھے آپ اور آپ کے والد ہیں۔کسی نے آپ کو سنایا کہ مسجد وزیر خاں میں ایک شخص آیا ہوا ہے وہ اپنے تئیں نبی کہتا ہے اور وہاں بہت لوگ جمع ہیں۔والد صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چلو ہم بھی مل آئیں۔راستہ میں آپ نے کہا کہ اب تو نبی کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں لیکن والد صاحب نے کہا کہ خدا اب بھی نبی بنا سکتا ہے ( جس کا مفہوم یہ تھا کہ ایسا نبی آسکتا ہے جو کہ خاتم النبین ہی ہو یعنی ایسا بروز آ سکتا ہے جس کی نبوت در حقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہوگی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں اور ایک غلطی کا ازالہ میں اس امر کی بخوبی صراحت فرما دی ہے اور یہ امر بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب نبیوں کے جامع ہیں اور اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خطاب ملا ہے کہ جری اللہ فی حلل الانبیاء ) یہی بات کرتے ہوئے دونوں مسجد وزیر خاں کے مشرقی دروازہ پر پہنچے جس میں سے مولوی صاحب کبھی نہیں گذرے تھے۔وہاں پہنچ کر ایسا معلوم ہوا کہ وہ نبی والد صاحب کا واقف ہے اور نبی کو بھی کسی نے بتا دیا تھا کہ والد سید محمد حسن شاہ صاحب آ رہے ہیں۔چنانچہ وہ ملنے کے لئے اس دروازہ پر آگئے ہیں اور حمد آل عمران: ۲۰