اصحاب احمد (جلد 5) — Page 535
۵۴۱ صحابہ قادیان تیار کرائی۔خاکسار حصہ اول میں آپ کی یہ روایت درج کر چکا ہے کہ آپ کی دوسری شادی سے قبل بھی حضور نے آپ کو دار اُسیح میں قیام کا موقع عطا کیا تھا (صفحہ ۶۱ ) اور یہ امر یقیناً مولوی صاحب کی طہارت قلب اور علوم رتبت پر دال ہے۔آپ کی اہلیہ محترمہ کی روایت حصہ دوم میں درج ہو چکی ہے کہ ۱۹۰۲ء میں حضور نے ہمیں دارا مسیح میں رہائش کے لئے بلوایا تھا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ روایت مذکورہ متن معلوم نہیں دونوں میں سے کس بار کے متعلق ہے۔۱- حضرت اقدس کی صلوٰۃ صلواۃ کی تفسیر میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز کا بھی ذکر کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ صلوۃ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے لیکن یہاں یہ حالت ہے کہ ادائے صلوٰۃ کر کے مسجد سے قدم باہر رکھتے ہی منکر وفحشاء میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ حضور دعا کے وقت پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں نے یا تو دعا کو بالکل جواب دے دیا ہوا ہے اور اگر بعض دعا کرتے بھی ہیں تو طوطے کی مانند عربی الفاظ دہرا دیتے ہیں۔رہے معنی اور مطلب تو اول تو کوئی ان کو جانتا ہی نہیں اور اگر کوئی شاذ و نا در جانتا ہے تو ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو غیر زبان ہونے کے باعث وہ جوش پیدا نہیں ہوتا بقیہ حاشیہ: - (ز) آپ کا بیان ہے کہ ایک اشتہار کی وجہ سے حضرت مسیح موعود سے آپ کا تعارف ہوا۔تفصیل یہ ہے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے تین سوالات کئے تھے۔پیر صاحب کی طرف سے حضرت مولوی نورالدین صاحب پر چند سوالات کئے گئے کہ آپ جواب دیں پھر ہم جواب دیں گے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے جوابات ایک اشتہار میں دئے۔اور یہ ۱۸۹۹ء سے قبل کی بات ہے اور پھر اہلیہ کی وفات کے بعد آپ کے قادیان آنے پر حضور نے اس اشتہار کی تعریف کی۔(حصہ اول۔صفحہ ۵۱) حضرت مولوی نورالدین صاحب کا مکتوب مشتمل بر سوالات ۱۸ فروری ۱۹۰۰ء کا ہے(دیکھئے الحکم ۲۴ اپریل صفحه ۱۷) اس لئے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے بیان میں سہو ہے کہ انہوں نے ۱۸۹۹ء میں جواب اشتہار لکھا۔اس لئے مولوی صاحب نے جواب بھی ۱۹۰۰ ء میں لکھا ہوگا اور ۱۹۰۰ء میں موسمی تعطیلات میں عند الملاقات حضرت اقدس نے تعریف کی ہوگی۔