اصحاب احمد (جلد 5) — Page 512
۵۱۷ کبھی فرماتے جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) ابھی بچے ہی تھے اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں تعلیم پاتے تھے اور میں بھی مدرسہ تعلیم الاسلام میں پڑھایا کرتا تھا۔اس وقت میں نے خواب دیکھا (جس کا مفہوم یہ ہے خواب میں کشتی وغیرہ بنانے اور اس کا ناخدا نے کا ذکر تھا) کہ آپ کی بہت بڑی شان ہوگی۔اس وقت سے لے کر آخر تک میں جب آپ والی کلاس میں جاتا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی وہاں موجود ہوتے تو میں کرسی پر نہیں بیٹھتا تھا بلکہ کھڑا ہو کر ہی پڑھایا کرتا تھا۔اور اس بات کو سوء ادب خیال کرتا تھا کہ آپ کے سامنے کرسی پر بیٹھوں اور یہ خواب میں نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو انہی دنوں میں سنا دیا تھا اور کہا تھا کہ صاحبزادہ صاحب! اس وقت ہمارا بھی خیال رکھنا ہو اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خلافت ثانیہ میں بھی ہم نے تمام بزرگوں کو حضرت مولوی صاحب کا احترام کرتے دیکھا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو آپ سے خاص محبت و عزت واحترام کرتے پایا۔حضور نے شروع سے لے کر آخر تک آپ کا خاص خیال رکھا اور نہایت اعزاز و تکریم کے ساتھ پیش آتے رہے اور متعدد مرتبہ آپ کو اپنی غیر حاضری میں قادیان کا امیر مقررفرمایا اور بوقت ضرورت عموماً آپ کو امامت نماز کا بھی ارشاد فرماتے رہے۔پھر آپ کبھی وہ باتیں زبانی بیان فرماتے جو آپ نے اپنے رسالہ ” کشف الاختلاف میں تحریر فرما کر شائع فرما دی ہوئی تھیں اور فرماتے کہ سب سے پہلے میں نے ہی ان باتوں کو خواجہ ( کمال الدین ) صاحب کے منہ سے سنا کہ ہم اپنی بیویوں کو کس طرح قناعت اور سادگی کی تعلیم دیں۔۔۔او لنگر خانہ کی آمد وخرج وغیرہ پر اعتراضات۔۔۔الخ کبھی فرماتے کہ مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب میرے شاگرد تھے۔اور مجھ سے قرآن شریف پڑھتے رہے ہیں۔جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قرآن شریف کی تفسیر لکھنی شروع کی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے مقبول ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسے بہت پسند فرمایا اور حضور کی زندگی میں رسالہ ”تفسیر القرآن کے نام سے شائع ہوتی رہی تو پہلے مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ رسالہ ”تفسیر القرآن علیحدہ شائع کرنے کی بجائے ریویو آف ریلیجنز کے ضمیمہ کے طور پر شائع کیا جایا کرے۔اور اس طرح میری تفسیر ریویو آف ریلیجنز کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع ہوتی رہی۔پھر جب مولوی محمد علی جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔آپ حضرت خلیفہ مسیح ثانی کے لئے ”میاں صاحب یا ”میاں“ کے الفاظ استعمال نہیں فرمایا کرتے تھے۔حضرت صاحب ، حضرت خلیفتہ اُسیح ثانی یا صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے۔واللہ اعلم (محمد شریف)