اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 498 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 498

۵۰۳ آپ ایک عظیم الشان جامعیت کے حامل تھے۔آپ کا علم وسیع۔آپ کی فراست گہری ، آپ کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مسیح سے عشق بے پایاں۔آپ کی اطاعت امام کامل ، آپ کے قلب صافی میں مخلوق کے لئے بے پناہ ہمدردی۔آپ کا قلب انوار الہیہ کا مورد۔آپ کی گفتگو میں شیرینی اور خلوص ، آپ کی علمی عظمت اور اس کے باوجود طبیعت میں انکسار اور آپ کے اخلاق اعلیٰ و اکمل یہ تمام صفات حسنہ شاذ ہی کسی انسانی جامہ میں مجتمع ہو کر صدیوں کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔باوجود ضعیف العمری اور پیرانہ سالی کے بلندی عزم کے باعث آپ میں اس قدر زندگی تھی کہ جب لندن میں مجھے آپ کی وفات کی اطلاع ملی تو مجھ پر سناٹا چھا گیا۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی ہمیشہ ان پر بارش ہوتی رہے اور اللہ تعالیٰ ان کی اولا د اور رفیقہ حیات کا حافظ و ناصر ہو اور احمدیت کو ایسے وجودوں سے مؤید فرماتا رہے۔آمین۔(۴۲) از مکرم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ ( سابق امیر جماعت راولپنڈی حال وارد مانٹریال کینیڈا) محترم جناب ملک صلاح الدین صاحب نے اس عاجز سے بھی حضرت مولانا صاحب مرحوم کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔کسی دوسرے کے علم و عمل کے اندازے کے لئے خود اپنے اندر بھی کچھ ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس لحاظ سے میں محسوس کرتا ہوں کہ محترم ملک صاحب نے ایک نہایت درجہ نا اہل وجود سے حضرت مولانا کے متعلق بیان کرنے کو فرمایا ہے۔بایں ہمہ میں تعمیل ارشاد میں یہ چند سطور لکھ رہا ہوں تا کہ ثواب میں شامل ہو جاؤں۔میں نے ۱۹۰۵ء کے اپریل کے آخر یا مئی کے ابتدائی نصف میں پہلی مرتبہ حضرت مولانا کومشن ہائی سکول گوجرانوالہ کے ہال میں دیکھا۔اس سال عیسائی پادریوں کے ایک گروہ نے جن کا سرخیل پادری جوالاسنگھ لکھنوی تھا گوجرانوالہ کے مسلمانوں پر ایک منظم تبلیغی حملہ کیا تھا۔پادری مذکور بڑا چرب زبان اور بڑا پر فنون و پُر حیل مناظر تھا۔علوم منطق و فلسفہ سے آگاہ تھا لیکن جاننے سے بہت زیادہ اس کا اظہار کرتا تھا۔یہاں تک کہ با واقف یہی سمجھنے لگ جاتے کہ شاید وہ وحید عصر ویگانہ روزگار ہے۔اس کا حوصلہ اتنا بڑا ہوا تھا کہ اصطلاحات منطق و فلسفہ میں تثلیث و کفارہ جیسے بعید از عقل مسائل کو اس طرح لپیٹ کر بیان کرتا کہ لوگ اس باطل کو بھی وقتی طور پر حق سمجھنے میں مبتلا ہونے لگتے مسلمانان گوجرانوالہ کو احساس ہوا کہ اس بلا کا درماں صرف قادیان دارالامان میں ہے اس لئے وہ جماعت احمد یہ گوجرانوالہ کے امیر حضرت حکیم محمد دین صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ قادیان سے مبلغین منگواد ہیں۔شہر میں ایک ہنگامہ بر پا تھا کہ قادیان سے مبلغین