اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 489 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 489

۴۹۴ تعلیم کے متعلق حرف گیری کی تو آپ نے میری اس اعلیٰ کامیابی کو حسن انتظام کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا۔انہی دنوں ہندوستان کی علمی درس گاہوں میں بعض واقفین کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بھجوانے کا پروگرام بن رہا تھا۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے اس ضمن میں خاص طور پر میری سفارش کی۔چنانچہ آپ کی سفارش پر مجھے بھی اس گروپ میں شامل کر لیا گیا اور بھجوایا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔آپ سیکرٹری بہشتی مقبرہ ہونے کی حیثیت سے ہر روز دفتر بہشتی مقبرہ میں تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔دفتر کی ڈاک پر دستخط فرمایا کرتے تھے۔میں نے بھی کچھ عرصہ اس دفتر میں بطور کلرک کام کیا ہے۔اس دوران میں میں نے دیکھا ہے کہ آپ عام طور پر ان چٹھیوں پر بغیر پڑھے دستخط فرما دیا کرتے تھے۔جو عام دفتری خط و کتابت کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں لیکن جہاں کسی موصی کے حق پر کوئی خاص اثر پڑنے کا سوال ہوتا تھا اس کے متعلق حضرت مولوی صاحب کی ہدایت تھی کہ موصی کی چٹھی پڑھ کر مجھے سنائی جاوے۔چنانچہ ایسا کیا جاتا اور بعض جگہوں پر آپ مضمون کی درستی کرواتے تھے اور پھر دوبارہ وہ جواب صاف طور پر لکھوا کر دستخط فرمایا کرتے تھے اور اس بارہ میں خاص احتیاط فرماتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جماعت میں جو مقام بخشا تھاوہ سب پر عیاں ہے۔میں نے یہ چند سطور اس لئے نہیں لکھیں کہ اس سے آپ کے درجہ میں کچھ اضافہ ہوگا بلکہ صرف اس لئے لکھ دی ہیں تا کہ آپ کے اس ذکر خیر سے اللہ تعالیٰ میری کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور محض اپنے فضل سے ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین۔از اخویم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل۔ایل بی ( مجاہد سوئزرلینڈ سابق امام مسجد لندن و وکیل الزراعت انجمن تحریک جدیدر بوه) سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اطال الله بقاءه واطلع شموس طالعہ نے ۱۲ ستمبر ۱۹۳۸ء کو مجھے میری درخواست وقف کے سلسلہ میں شرف باریابی بخشا اور لمبی روح پرور گفتگو کے بعد جو شاید ایک گھنٹہ تک جاری رہی، وقف بھی قبول فرمایا۔فالحمد للہ۔ان دنوں واقفین بڑی حد تک حضور کی ذاتی نگرانی میں تھے۔حضور نے ہر ایک واقف کو چوبیس گھنٹے کی ڈائری رکھنے کی ہدایت فرما رکھی تھی اور ان کا ایک جگہ رہنا ضروری تھا۔ہماری زندگی اس سخت ڈسپلن کے ماتحت خاصی مشینی انداز اختیار کر گئی تھی۔اس دوران میں ایک دن حکم ملا کہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ استاد مقرر فرمائے گئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب سلسلہ احمدیہ میں ایک بلند مقام رکھتے تھے اور مدرسہ اور کالج کے ایام میں بھی