اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 488 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 488

۴۹۳ سلم العلوم کی عربی عبارت لکھ دیتا اور پھر اس کے بعد مختصر تشریح کر دیتا۔غرض میں نے حضرت مولوی صاحب سے تعلق کی بناء پر کوشش کی کہ آپ کے پرچے میں کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہ رہ جائے۔اس کے بعد ایک روز آپ کلاس میں فرمانے لگے کہ میرے ایک استاد کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی لڑکا ان کے سوالات کا صحیح جواب اردو میں بیان کرتا تو اسے ۱۰۰/۱۰۰ نمبر دیتے تھے لیکن اگر کوئی لڑکا صحیح جواب عربی میں بیان کرتا تو اسے وہ ۱۰۲/۱۰۰ نمبر دیتے تھے۔میں نے بھی آج اپنے استاد کی تقلید میں ایک لڑکے کو۱۰۲/۱۰۰ نمبر دئے ہیں کیونکہ اس نے سوالات کا جواب عربی میں دیا ہے اور صحیح جواب دیا ہے مجھے یاد ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے میرے اس پرچے کا ذکر حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم کے ساتھ کیا اور آپ نے بڑے زور کے ساتھ اس امر کی سفارش فرمائی کہ محمد احمد کو داخلہ امتحان بطور قرضہ حسنہ نہ دیا جائے بلکہ بطور امداد دیا جائے۔چنانچہ حضرت میر صاحب مرحوم کی سفارش پر مجھے یہ داخلہ بطور امداد دیا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔واقفین کے ابتدائی گروپ کی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذاتی نگرانی میں تعلیم و تربیت ہوتی تھی۔اس وقت یہ گروپ گرمیوں میں حضور کے ہمراہ ڈلہوزی جاتا تھا۔ان دنوں اس گروپ کے ذمہ علم صرف و نحو کی بعض کتب کی تعلیم مقرر کی گئی تھی۔بعض اساتذہ کرام جوان کتب کی تدریس پر متعین تھے۔وہ بھی حضور کے ہمراہ ڈلہوزی جاتے تھے اور وہ واقفین کو پڑھاتے تھے۔مختلف کتب کے لئے عرصہ تعلیم اور پاس ہونے کے لئے نمبروں کی علیحدہ علیحدہ تعین کر دی گی تھی۔مقررہ عرصہ کے بعد ان کتب کا امتحان ہوتا تھا اور جو فیل ہو جاتا اسے مزید دودفعہ امتحان دینے کا موقع ملتا تھا۔اگر کوئی فرد تین دفعہ اس امتحان میں فیل ہو جاتا تو اسے وقف سے فارغ دیا جا تا تھا۔حضرت مولوی صاحب ان اساتذہ کے انچارج تھے۔جو اس وقت اس کام پر متعین تھے۔آپ حضور کی خدمت میں تعلیمی رپورٹیں ہفتہ وار بھجواتے تھے۔آپ دن دنوں شرح جامی پڑھا رہے تھے۔میرے ذمہ اس وقت کتاب التهذيب والتوضيح کا امتحان دینا باقی تھا۔اس کتاب کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں نے شرح جامی کی کلاس کی باقاعدہ شمولیت کرنی تھی۔ویسے میں اپنے طور پر کلاس میں شامل ہو جایا کرتا تھا۔کتاب” التهذيب والتوضیح کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے ۸۵/۱۰۰ نمبروں کی تعین کی گئی تھی اور عرصہ تعلیم غالباً تین ماہ تھا۔کتاب کافی ضخیم اور مشکل ہے اور کامیابی کا معیار بہت کٹھن اور بلند تھا۔اس لئے اس میں فیل ہونے کے ڈر سے طبعاً بڑی گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی۔اس لئے مجھے اس کی تیاری کے لئے کافی محنت کرنی پڑی۔اور میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کتاب میں سے ۹۹/۱۰۰ نمبر حاصل کئے۔ممتحن صاحب نے اس پر چہ پر یہ نوٹ بھی دیا تھا کہ ایک نمبر متحن نے صرف اپنا حق سمجھتے ہوئے کاٹ لیا ہے۔ویسے یہ طالب علم ۱۰۰/۱۰۰ نمبر لینے کا مستحق ہے۔کسی نے حضرت مولوی صاحب کے حسن انتظام