اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 487 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 487

۴۹۲ لڑکے کو ضرور ٹھوکر لگے گی اور پھر اسے پتہ لگے گا کہ محض پڑھائی کام نہیں آتی۔میں تمہارے لئے دعا کرتا رہتا ہوں تم خود بھی حضرت صاحب کی خدمت میں اور بزرگوں کو دعا کے لئے کہتے رہا کرو۔میں نے آپ کی اس نصیحت پر عمل شروع کر دیا اور اس کے بعد نتیجہ امتحان تک متواتر حضرت صاحب اور مولوی صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتا رہا۔جب نتیجہ نکلا تو میں سخت حیران ہوا کہ کیونکہ اس کلاس میں چودہ میں سے صرف دولڑ کے کامیاب ہوئے۔ایک میں اول اور دوسرے مولوی بشیر احمد صاحب حال مبلغ کلکتہ دوم آئے اور وہ لڑکا جس کے متعلق مولوی صاحب نے فرمایا تھا کہ وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا۔وہ بھی فیل ہو گیا اور باقی لڑکے بھی سب کے سب فیل ہو گئے۔اس کے بعد مجھے یاد ہے کہ اس لڑکے کو سخت قلق ہوا۔وہ روتا تھا اور شرم کے مارے کسی کو منہ نہیں دکھاتا تھا۔میں نے اسے تاکید کی کہ وہ حضرت مولوی صاحب کو اب بھی دعا کے لئے کہے اور جا کر معافی مانگے۔چنانچہ وہ بار بار مولوی صاحب کے پاس جاتا تھا اور دعا کے لئے کہتا تھا کچھ دنوں کے بعد اخبارات میں شور مچ گیا کہ مولوی فاضل کے پرچے بہت مشکل تھے اور نتیجہ بھی بڑا سخت نکلا ہے۔اس میں کچھ نرمی کرنی چاہئے۔غالبا اس سال اور نینٹل کالج لاہور کا کوئی لڑکا مولوی فاضل کے امتحان میں کامیاب نہ ہوا تھا۔انہوں نے خاص طور پر اخبارات میں شور مچایا۔چنانچہ یونیورسٹی نے اس شور سے متاثر ہوکر دولڑ کے مزید جامعہ احمدیہ قادیان کے اور دولڑکے اور منٹل کالج کے کامیاب قرار دئے۔جامعہ احمدیہ کے ان کامیاب طالب علموں میں سے ایک لڑکا وہ بھی تھا جس کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں۔یہ واقعہ ۱۹۳۷ء کا ہے۔حضرت مولوی صاحب کا مقام میرے دل میں پہلے ہی بہت زیادہ تھا لیکن اس واقعہ کے بعد میرا اعتقاد آپ کے متعلق اور بھی پختہ ہو گیا اور میں نے آپ کی زندگی کے آخری ایام تک آپ سے نیاز مندانہ تعلق قائم رکھا۔مولوی فاضل کلاس کا ایک اور واقعہ جو میری ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے بیان کر دیتا ہوں۔ان دنوں طالب علموں کو کوئی باقاعدہ وظیفہ نہیں ملتا تھا بلکہ لڑکے اپنے اپنے خرچ پر پڑھتے تھے۔صرف مبلغین کلاس میں جولڑ کے جماعتی طور پر منتخب ہوتے تھے ان کو پانچ روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔البتہ بعض غریب طالب علموں کو امتحان مولوی فاضل میں داخلہ کی رقم بطور قرضہ حسنہ ملتی تھی مگر اس کا طریق یہ تھا کہ پہلے لڑکوں کا آزمائشی امتحان لیا جاتا تھا جو کافی مشکل ہوتا تھا جولڑ کے اس ٹیسٹ میں کامیاب ہو جاتے تھے ان کو داخلہ امتحان بطور قرضہ حسنہ ملتا تھا اور ان سے اسٹامپ پر اس رقم کا اقرار نامہ لکھوالیا جاتا تھا۔ہماری کلاس کا بھی اس غرض کے لئے امتحان لیا گیا۔حضرت مولوی صاحب نے چونکہ منطق کی کتاب سلم العلوم اور فلسفہ کی کتاب بحر العلوم کے چند اوراق ہی پڑھائے تھے اس لئے ان کتابوں کی تیاری کے لئے میں نے برادرم ملک رحمت اللہ صاحب مرحوم جو کہ مؤلف اصحاب احمد کے چھوٹے بھائی تھے، سے امداد حاصل کی انہوں نے بڑی محنت سے یہ کتابیں مجھے پڑھا دیں۔میں