اصحاب احمد (جلد 5) — Page 28
۲۸ نتیجه امتحان آپ سہارن پور سے اتفاقاً دیو بند گئے تو دوم مدرس مولوی خلیل الرحمن انبیٹھوی نے آپ کو سند دی جس میں مولوی محمود حسن اول مدرس نے تحریر کیا تھا کہ میں تئیس سال سے اس مدرسہ میں پڑھا تا رہا ہوں۔اس عرصہ میں تین بے مثل طالب علم میرے پاس آئے ہیں۔ایک مولوی محمد بنگالی کہ اسے اعتراض پیدا کرنے میں بہت کمال حاصل تھا۔جس بات کے متعلق ہمارے وہم میں بھی یہ بات نہ آتی ہو کہ اس پر کوئی اعتراض ہوسکتا ہے اس میں بھی وہ کوئی اعتراض پیدا کر لیتے تھے۔دوسرے ایک پنجابی مولوی کہ مشکل اور پیچیدہ عبارت کو بھی بہت صحیح طور پر حل کر لیتے تھے اور تیسرے سرور شاہ صاحب کہ ان کا ذہن کبھی غلط بات کی طرف جاتا ہی نہیں۔جونئی بات کہتے ہیں وہ نہایت معقول ہوتی ہے لیکن حضرت مولوی صاحب نے یہ سند واپس کر دی اور کہا کہ آپ یہ دعا کریں کہ جوسند اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے وہ سند قائم رہے اور زبان پکڑ کر بتایا کہ یہ میری سند ہے۔امیر گھرانے میں شادی کی پیشکش سہارن پور میں پڑھانے کے وقت مولوی وضع کا ایک شخص مدرسہ میں آ کر بیٹھ رہتا تھا۔ایک دن عالی شان نوابی طرز کے مکان میں اپنے ہاں دعوت کے بہانہ سے لے گیا اور پُر تکلف کھانا کھلایا۔آپ کو خیال ہوا کہ یہ اس کا مکان نہیں ہو سکتا۔دوسرے روز اس نے کہا کہ یہ دعوت ایک رئیس کی طرف سے تھی جو ایک بڑے عہدہ پر مقرر ہے۔اس کی اولا د صرف ایک ہی لڑکی ہے۔تین گاؤں کا مالک ہے۔وہ اس کی شادی کسی سید مولوی سے کرنا چاہتا ہے۔اس نے تو آپ کو دیکھا ہوا تھا۔دعوت میں مستورات نے بھی دیکھ کر پسند کر لیا ہے۔اگر آپ تیار ہوں تو وہ نصف جائیداد نکاح کے روز ہی آپ کے نام لکھ دے گا۔آپ نے محافظ دفتر سے مشورہ کیا۔وہ بڑا نیک تھا اور آپ اکثر اس سے مشورہ لیا کرتے تھے۔اس نے کہا کہ اگر آپ کا وطن جانے کا خیال ہے تو یہ شادی مفید نہیں۔یہ لوگ معمولی قوم کے ہیں۔بادشاہوں کے وقت میں غلام تھے۔اس وقت کی جائیداد ان کے پاس چلی آتی ہے۔یہاں شادی کریں گے تو اولاد اور دوسرے رشتہ داروں میں اجنبیت کی رہے گی لیکن اگر وطن جانے کا خیال نہ ہو تو خیر۔چنانچہ آپ نے وہاں شادی نہ کی۔یہ مولوی کیمیا گری کا بہت مشتاق تھا اور آپ کو بھی باوجود انکار کے زیادہ وثوق سے کیمیا گر یقین کرتا تھا۔در حقیقت اس نے آپ کو دیو بند میں دیکھا تھا کہ آپ نے وظیفہ لینے سے انکار کیا تھا اور کہتا تھا کہ اگر آپ کیمیا گر نہیں ہیں تو بھلا طالب علم وظیفہ کا انکار کیسے کر سکتا ہے؟