اصحاب احمد (جلد 5) — Page 454
۴۵۹ کے سرانجام دینے میں اپنی بقیہ زندگی بسر کر دیں۔مگر نو جوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف بقیہ حاشیہ: وہ شریر جو گالیاں دینے سے باز نہیں آتا اور ٹھٹھا کرنے سے نہیں رکتا اور توہین کی عادت کو نہیں چھوڑتا اور ہر ایک مجلس میں میرے نشانوں سے انکار کرتا ہے اس کو چاہئے کہ میعاد مقررہ میں اس نشان کی نظیر پیش کرے ورنہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے انقطاع تک مفصلہ ذیل لعنتیں اس پر آسمان سے پڑتی رہیں گی۔بالخصوص مولوی ثناء اللہ جو خود انہوں نے میری نسبت دعوی کیا ہے کہ اس شخص کا کلام معجز نہیں ہے ان کو ڈرنا چاہئے کہ خاموش رہ کر ان لعنتوں کے نیچے کچلے نہ جائیں۔“ (صفحہ ۳۸) فیصله ونشان نمبر ۲۰ سیرۃ نگار لکھتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب جنوری ۱۹۰۳ء میں قادیان گئے لیکن حضرت مرزا صاحب نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا بعد میں بھی حضرت مولانا نے مرزا صاحب سے خط و کتابت میں تصانیف میں ، تقاریر میں ، مناظرات میں، جلسوں اور وعظوں میں کسی نہ کسی رنگ میں مباحثہ جاری رکھا۔۔۔قوم نے آپ کو اسی خدمت کے عوض فاتح قادیان کے خطاب سے سرفراز کیا۔جب مرزائے قادیان اپنی امت و ذریت کے ساتھ۔۔۔مناظرات سے عاجز آگئے تو مباہلہ فرمایا مولانا ثناء اللہ بفضلہ تعالیٰ ان کے بعد چالیس تک زندہ رہے۔“ (صفحہ ۱۷۲،۱۷۱) حقیقت یہ ہے کہ حضور کے بیان کردہ تینوں نشانات ظاہر ہوئے۔اول: مولوی ثناء الله قبل از وقت اطلاع دئے بغیر دوتین سپاہیوں کے ساتھ قادیان آئے اور سید ھے آریہ سماجیوں کی گود میں پہنچے۔گویا جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف شب و روز دشنام طرازی کرتے ہیں ان کو ترجیح دی۔غیرت مند مومن ہوتے تو یوں کیوں کرتے۔(بحوالہ بدر ۰۵-۶-۲۲ صفحه۴ ) پھر مولوی صاحب نے مجمع میں پیشگوئیوں کی نسبت خیالات ظاہر کرنے کا موقع حاصل کرنا چاہا ( بحوالہ البدر۰۳-۱-۶ صفحه ۹۳ک اوالحکم ۰۳-۲- ۷ صفحه ۷ ) حضور نے یہ رقعہ مولوی سرور شاہ صاحب کو دیا کہ احباب کو سنادیں ) اس سے ظاہر ہوا کہ حضور کی دعوت قبول کرنے کے باعث نہیں آئے اور ان کو حضور سے اتنا بغض تھا کہ انہوں نے اعداء الرسول کو ترجیح دی۔وہ مناظرہ کرنے آئے تھے نہ کہ تمام پیشگوئیوں کی تحقیق کے لئے۔کیونکہ انجام آتھم میں حضور ہمیشہ کے لئے مناظرہ سے دستکش ہونے کا اعلان فرما چکے تھے۔مولانا کے سیرۃ نگار کو بھی اقرار ہے کہ مولانا مناظرہ کے لئے گئے تھے جیسا کہ اوپر اقتباس کے علاوہ ذیل کی عبارت میں جو زیر عنوان ” مناظرہ قادیان درج ہے مرقوم ہے۔