اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 455 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 455

کرنے کے عہد کی درا خوستیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی خدمت اقدس میں پیش کیں اور چونکہ بقیہ حاشیہ: - مولانا کب چوکنے والے تھے فوراً قادیان پہنچ گئے اور مرزا صاحب کو اطلاع بھجوا دی کہ بندہ حاضر ہے مناظرہ کے لئے میدان میں آئے۔“ ( صفحہ ۳۱۷) حضور نے مولوی صاحب کو لکھا کہ میں طالب حق کے شبہات دور کرنے کو ہر وقت تیار ہوں میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں مباحثات نہیں کروں گا۔آپ لوگ ہر بات کو لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں فرمایا۔سودہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوۃ سے باہر نہیں جائیں گے اور وہ اعتراض نہ کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یا حضرت عیسی یا حضرت موسیٰ " پر حضرت یونس پر عائد ہوتا ہے۔اور اس کی حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زدنہ پڑتی ہو۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے صرف آپ مختصر ایک سطر یا دوسر تحریر دیں دے کہ میرا یہ اعتراض ہے پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔۔۔۔۔تیسری شرط یہ ہے کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ پیش کریں گے۔کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔۔۔اور ہم ان دنوں میں باعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر آپ سچے دل سے آئیں ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ وفساد میں عمر بسر نہ کریں۔“ ۲۱ مولوی صاحب نے کوئی شرط بھی منظور نہ کی حتی کہ یہ امر بھی تحریر التسلیم نہ کیا کہ وہ دعویٰ کی جانچ کے لئے منہاج نبوۃ سے باہر نہیں جائیں گے بلکہ مناظرہ کی طرح ڈالنی چاہی اور مطالبہ کیا کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹہ کے بعد تین سطریں پانچ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا۔۲۲ اس سے مناظرہ کی روش ظاہر تھی اس لئے حضور نے منظوری نہ فرمائی ۲۳ گویا حضور کا فرموده نشان اول پورا ہو گیا۔تفصیل فیصله ونشان نمبر ۲۱ دوسرانشان تب ظاہر ہوتا جب مولوی صاحب اس چیلنج کو قبول کرتے کہ " کا ذب صادق سے پہلے