اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 437 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 437

۴۴۲ اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وو بقیہ حاشیہ: - علاقہ میں موجودہ وقت میں بھی بہت سے مقامات پر جماعت ہائے احمد یہ قائم ہیں اور ان کا چندہ مرکز قادیان میں پہنچ رہا ہے۔(۳) مبالغہ نہ سمجھا جائے تو ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ حضرت مولا نا اگر اس زمانہ میں پیدا نہ ہوتے تو یہ جو تھوڑی بہت تو حید ہمیں نظر آتی ہے اور یہ جو بقدر قلیل کتاب وحدیث کا شوق مسلمانوں میں دکھائی دیتا ہے اس کا صرف نام ہی باقی رہ گیا ہوتا‘ (صفحہ ۱۱۶) یہاں کسی فرقہ کا ذکر نہیں بلکہ علی العموم مسلمانوں میں کتاب وحدیث کا جو شوق باقی ہے اس کا باعث مولوی ثناء اللہ صاحب کو قرار دیا ہے اور یہ امر جس قدر مبالغہ بلکہ کذب سے پر ہے کسی سے مخفی نہیں۔(۱) ثناء اللہ کا طلب علم سیرت ثنائی سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) مولوی ثناء اللہ صاحب ۱۸۶۸ء میں پیدا ہوئے (صفحہ ۶۹) گویا حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب سے عمر میں پانچ سال بڑے تھے اس لئے قدر تا آغاز میں ہی اتنی مدت زیادہ مطالعہ وحصول علم کا موقع پایا تھا۔(ب) مولوی ثناء اللہ صاحب نے چوٹی کے علماء سے تحصیل علم کی تھی۔چنانچہ ا۔مولوی احمد اللہ صاحب امرت سری سے شرح جامی و قطبی پڑھی جو کہ مسجد غزنوی کے خطیب تھے انہوں نے درس قرآن جاری کیا تھا۔امرتسر کی مسجد مبارک بنوائی تھی۔مولوی غلام علی صاحب قصوری کے شاگرد تھے۔(صفحہ ۸۷) (۲) پھر حافظ اہلحدیث مولوی حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی سے سند حدیث حاصل کی۔جنہوں نے ساٹھ مرتبہ صحاح ستہ کا درس دیا اور ہندوستان کے علاوہ تبت، کابل ، شام ، نجد اور یمن تک کے احباب آپ کے شاگردوں میں شامل تھے۔حافظ صاحب نے ابوسعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور میاں نذیر حسین صاحب محدث دہلوی سے علم حدیث پڑھا تھا۔(صفحہ ۹۶) (۳) پھر شمس العلماء میاں نذیر حسین صاحب دہلوی سے تدریس حدیث کی اجازت حاصل کی۔میاں صاحب نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی، حضرت شاہ شہید اور حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب سے تحصیل علوم کی تھی اور عمر بھر میں سینکڑوں مرتبہ صحاح ستہ کا دور کیا۔(صفحہ ۹۷)