اصحاب احمد (جلد 5) — Page 418
۴۲۳ موقع پر جب بارش ہو رہی تھی تو میں نے حضرت نواب محمد دین صاحب مرحوم و مغفور سے عرض کی کہ آپ حضرت مولوی صاحب سے کہیں کہ باہر سے اکثر زمیندار لوگ جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے ہوئے ہیں اور ان کے پاس صرف وہی کپڑے ہیں۔جو انہوں نے پہنے ہوئے ہیں اور سخت سردی کا موسم ہے۔اگر یہ کپڑے گیلے ہو گئے تو یہ بے چارے بیمار ہو جائیں گے۔لہذا بارش کے وقت جلسہ بند ہو جانا چاہئے تا ہائی سکول اور بورڈنگ میں جا کر احباب بارش کا وقت گزار لیں۔حضرت نواب صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو یہ عرض کرنے کی جرات نہیں۔آپ خود کہیں میں نے نہایت ہی ڈرتے ڈرتے جب عرض کی تو فرمایا۔اگر ہماری جماعت کے لوگ یہ معمولی بارش بھی برداشت نہیں کر سکتے تو پھر آئندہ زمانہ میں جو بڑی بڑی تکلیفیں آنے والی ہیں انہیں کیسے برداشت کریں گے؟ ۳۴- از اخویم مرزا فتح الدین صاحب ربوہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ۱۹۴۴ء میں ڈلہوزی میں تشریف رکھتے تھے حضور نے مجلس میں ذکر فرمایا کہ حضور ایک دفعہ سرینگر میں تھے ایک کشمیری صاحب وہاں آئے اور کہا کہ میں قادیان سے ہوکر آیا ہوں کہ حضور وہاں نہ تھے۔حضور نے دریافت کیا۔کیا مولوی شیر علی صاحب سے ملے اس نے کہا کہ نہیں پھر پوچھا کیا مولوی محمد سرور شاہ صاحب سے ملے اس نے کہا نہیں پھر مسجد اقصیٰ وغیرہ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ان کا علم نہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ آپ وہاں کی کوئی بات بتا ئیں تو اس نے کہا کہ وہاں ایک مولوی صاحب ہیں جو سارے سال کے برابر نمازیں ایک ہی دفعہ پڑھا دیتے ہیں۔اس پر حضور کو اطمینان ہو گیا کہ وہ قادیان ہو آیا ہے اور وہاں مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی امامت میں نماز پڑھی ہے۔مولوی صاحب چونکہ ترتیل کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے تھے۔مقتدی بعض دفعہ سمجھتے تھے کہ آپ بھول گئے ہیں آپ ہمیشہ فرماتے تھے کہ مجھے لقمہ نہ دیا کرو بلکہ انتظار کیا کرو۔میں بھولتا نہیں کسی نے یہ اعتراض کیا کہ آپ تلاوت زیادہ لمبی کرتے ہیں تو فرماتے تھے کہ میں بھی مولوی ہوں مجھے علم ہے کہ کتنی تلاوت کرنی چاہئے۔آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ۱۹۳۱ء سے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں گویا بتیس سال سے خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔اور اس وقت سپر نٹنڈنٹ ہیں اور اس سارے عرصہ میں حضور کے سفروں میں بالعموم رفاقت کا موقع پاتے رہے ہیں۔