اصحاب احمد (جلد 5) — Page 414
۴۱۹ جن دنوں میں محترم جلال الدین صاحب شمس ولایت میں امام مسجد لندن تھے اور مشنری انچارج کے فرائض سر انجام دیتے تھے اور ان کے کام کی رپورٹیں الفضل میں چھپتی تھیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ شرک کے مرکز میں ان کو کامیابی دے رہا ہے تو حضرت مولوی صاحب خوشی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ جبکہ ایک مکان کی بنیا درکھ کر گھر واپس جارہے تھے تو مجھ سے ذکر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پیشگوئی آخری زمانہ متعلق طلوع الشمس من مغربها ۱۲ کی ہے کہ آخری زمانہ میں سورج مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ اس سے مراد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے یہ ہے کہ مغربی اقوام اسلام میں داخل ہوں گی اور اس سلسلہ میں فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شمس صاحب کی معرفت اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی پوری فرما دی ہے یہ پہلی بار میں نے حضرت مولوی صاحب سے سنا۔پھر جب مکرم شمس صاحب ولایت سے واپس آئے تو آپ کے اعزاز میں دی گئی ایک دعوت میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی اس پیشگوئی کو شمس صاحب پر چسپاں فرمایا۔بہر حال حضرت مولوی صاحب ایک بہت بڑے عالم اور روحانی انسان تھے اور نہایت باوقار تھے اور مسجد مبارک میں جس باقاعدگی سے آپ باجماعت نماز ادا فرماتے تھے۔وہ قابل رشک تھی با وجود بڑھاپے کے کبھی تساہل نہ ہوتا تھا۔آپ نے ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ایک دفعہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کے پہلے پارہ میں آیت ہے وَاِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخشِعِينَ ۱۳ کہ نماز بہت بوجھل ہے مگر جو خشوع خضوع رکھتے ہیں ان پر بوجھل نہیں۔فرماتے تھے کہ سردی کے دن ہوں اور گرم لحاف میں انسان بیٹھا یا لپٹا ہوا اور ادھر مؤذن کہتا ہو۔حتی علی الصلوۃ کہ آؤ نماز کے لئے اس وقت اگر دل میں خشیت اللہ نہ ہو تو کون گرم لحاف چھوڑ کر نماز کے لئے جاسکتا ہے۔بہر حال نماز کے معاملہ میں آپ نہایت درجہ پاکیزہ نمونہ رکھتے تھے۔۱۹۲۹ء کے موسم گرما میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سرینگر میں ہاؤس بوٹوں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔دریا کے کنارے ایک چھولداری لگائی گئی تھی جس میں نمازیں ہوتی تھیں اور عصر کی نماز کے بعد حضور خدام میں بیٹھا کرتے تھے۔میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ ایک دن ایک شخص آیا جس کا لباس پیروں کا ساتھا اور دراصل وہ امداد کا خواہش مند تھا۔اس نے کہا کہ حضور میں یہاں سے قریب ہی کا رہنے والا ہوں مجھے معلوم نہ تھا کہ حضور تشریف لائے ہوئے ہیں میں قادیان گیا تھا وہاں سے علم ہوا کہ حضور یہاں تشریف رکھتے ہیں۔قادیان کے ذکر پر کسی نے سوال کیا کہ وہاں آپ نے کیا کیا دیکھا اس نے بیان کیا کہ میں نے وہاں مسجد مبارک ،مسجد اقصی مینار، بہشتی مقبرہ، ہسپتال، سکول وغیرہ دیکھے۔کسی نے کہا اور کوئی بات بیان کریں۔اس نے کہا کہ مجھے یاد ہے وہاں مسجد مبارک میں ایک حضرت مولوی صاحب ہیں جو نہایت مبارک