اصحاب احمد (جلد 5) — Page 410
۴۱۵ ایک دفعہ میں نے آپ سے عرض کیا کہ بعض صحابہ ربَّنَا کو غنیت کے ساتھ رہناں۔اتنا کواتناں اور اهدنا کو اهدناں پڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے۔آپ نے تحریر فرمایا اس کو بلاغنیت پڑھنا چاہئے اور غنیت کے ساتھ پڑھنا ہرگز جائز نہیں اور صحابہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شارع نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت شاہ صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ و تعبیر الرویا کا خاص علم بخشا ہوا تھا۔چنانچہ میں نے آپ سے متعدد بار تعبیر رویا کے متعلق دریافت کیا ہر دفعہ ہی آپ کی تعبیرات پر واقعات نے مہر تصدیق ثبت کردی۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وعلى عبده المسيح الموعود وعلى اله وخلفائه وانصاره واعوانه الى يوم الدين امين يارب العلمین۔-۳۰ از اخویم مولوی صالح محمد صاحب فاضل مجاہد مغربی افریقہ ( آپ میرے ہم جماعت ہیں ) میری عمر تقریباً نو دس سال کی تھی جب قادیان کی مقدس بستی میں آکر میں نے سکونت اختیار کی۔چوتھی کلاس ہائی سکول سے پاس کر کے میں احمد یہ سکول میں داخل ہو گیا اور پھر جامعہ میں مولوی فاضل پاس کر کے دو سال مبلغین میں لگائے۔اس لمبے عرصہ میں جو میں نے استاذی المکرم جناب سید محمد سرور شاہ صاحب کے متعلق جو تاثر اپنے دل و دماغ میں لیا اس کا خلاصہ اور نچوڑ یہ ہے کہ آپ تقوی وطہارت پاکیزگی و پاکدامنی کے مجسمہ تھے ان اوصاف حمیدہ کا ایک سمندر تھا جو آپ کے دل میں موجیں مار ہا تھا اور ان لہروں کے باہمی ٹکراؤ سے نور کی کرنیں آپ کے چہرہ مبارک سے پھوٹ پھوٹ کر ضیا باری کرتیں تھیں۔میں نے ایک لمبا عرصہ آپ کے زیر سایہ گزارا۔میں نے ایک لمبا عرصہ آپ سے فیض حاصل کیا۔میں نے کبھی آپ کو اوپر نظر کر کے چلتے نہیں دیکھا۔مجھے آپ کے تجر علم کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں اسے ہرا پنا اور پر ایا جانتا ہے۔جس چیز کا میرے دل پر سب سے زیادہ اثر ہے وہ آپ کی پاکیزگی و پاکدامنی۔تقوی وطہارت اور خشیت اللہ تھا جو باطن میں چمکتا اور اس کی نورانی کرنیں چہرے سے بھی ظاہر ہوتیں تھیں۔اس چیز پر ان کو بھی بجاطور پر فخر تھا۔ایک شادی کا موقع تھا لڑ کے کی عمرلڑ کی سے بہت زیادہ تھی۔اس پر لڑ کی کے بعض رشتہ داروں کو اعتراض پیدا ہوا اور وہ آپ کے پاس مشورہ کے لئے گئے۔آپ نے مسکرا کر فرمایا جس نے اپنی جوانی کو پاکدامنی و پاکیزگی سے گزارا ہو اس پر عمر کی زیادتی کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ایک دفعہ ٹھیکری والے کے سکھوں اور احمدیوں میں کسی وجہ سے لڑائی ہوگئی۔میں نے دیکھا کہ لمبی سی لاٹھی