اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 400 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 400

۴۰۵ مولوی سید سرور محمد شاہ صاحب مقرر ہو گئے تھے اور اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی بطور نائب یا کلرک کے متعین تھے۔ان دنوں دور دور سے احمدیوں کے بچے پڑھنے کے لئے آتے تھے۔چنانچہ حضرت مولوی ذوالفقار علی خان صاحب کے دو بچے ممتاز علی خان صاحب، ہادی علی خان صاحب بھی ریاست رامپور (یو پی) سے آکر زیر تعلیم تھے اور بورڈنگ میں داخل تھے گرمیوں کا موسم تھا۔ڈھاب خوب بھری ہوئی تھی۔ہمیں حضرت مولوی سرورشاہ صاحب نے اس میں نہانے کی اجازت نہ دی۔گو ہم لوگ لنگر لنگوٹ باندھ کر تیار تھے لیکن بوجہ عدم اجازت مجبور تھے۔اس اثناء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) اپنی کشتی لے کر سیر کرنے کی نیت سے بورڈنگ کی طرف آگئے اور بعض اپنے دوستوں کو باری باری کشتی پر سیر کرانے لگے۔اسی اثناء میں میں کا تب سے تفخیذ الاذہان کی کتابت شدہ کاپی لے کر صاحبزادہ صاحب کے پاس آیا تو آپ کشتی سے اتر کر کاپی دیکھنے لگے۔موقع غنیمت جان کر بہت سے لڑکے کشتی میں سوار ہو گئے اور باوجود منع کرنے کے نہ اترے ان میں ہادی علی خان صاحب بھی تھے۔جب کشتی تھوڑی دور گئی تو ڈولنے لگی اور لڑکے گھبرائے۔جب اس کی ایک طرف نیچی ہوتی تو اس کی دوسری طرف سب لڑکے بوجھ ڈال دیتے۔اس طرح کرتے کرتے وہ الٹ گئی ان میں سے بعض لڑکے مثلاً ہادی علی خان صاحب و شیخ عبد الرحمن صاحب مرحوم برا در کلاں حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم رئیس التبلیغ مغربی افریقہ اور ایک پہاڑی لڑکا عبدالجبار نام بھی تھے۔جو نہی کشتی ڈوبی ہم سب نے ڈھاب میں چھلانگیں لگا دیں تاکہ ڈوبنے والوں کو نکالیں۔چنانچہ شیخ عبدالرحمن صاحب کو ڈاکٹر فضل الدین صاحب یوگنڈا ( مشرقی افریقہ ) والوں نے اور ہادی علی خان صاحب کو مولوی محمد سرور شاہ صاحب نے نکالا اور عبدالجبار بڑا مضبوط تھا جو اس کو ہاتھ لگا تا اس کو بھی ساتھ لے کر ڈوب جاتا تھا۔اس لئے اس کی طرف کوئی جرات نہ کرتا۔آخر ابوسعید عرب صاحب نے ایک شہتیری پانی میں ڈال کر حکمت عملی سے اس کو پکڑا کر اس کے سہارے اس کو نکالا۔آخر کار حضرت مسیح موعود نے اس حادثہ کی تحقیقات کروائی اور مولوی غلام حسین صاحب پشاوری ( پسر حضرت میاں محمد یوسف صاحب مرحوم مقیم مردان ) کی غلطی ثابت ہوئی اور حضور نے انہیں معاف کر دیا۔رض مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب کا بیان الحکم ۳۸-۲-۲۸ میں شائع ہوا تھا اس میں مرقوم ہے کہ پروف دیکھنے کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب کشتی سے اترے تو بعض بچے اس میں سوار ہو گئے اور ایک طالب علم نے ان کو ڈرانے کے لئے کشتی کو ہلایا تو وہ ڈوب گئی۔حضرت مولوی سرورشاہ صاحب کو پتہ لگا تو وہ بھی نیز تیراک لڑکے بھی ڈھاب میں کود پڑے اور بچوں کو نکالا۔(صفحہ ۵)