اصحاب احمد (جلد 5) — Page 368
پر برما سے آتا تو آپ مجھے بہت پیار سے ملتے اور مجھے برما میں ہی احباب کی چٹھیوں سے بار ہا پتہ چلتا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب عصر یا مغرب کے بعد مجلس عرفان میں تشریف فرما ہوتے تو حضرت مولوی صاحب میرے خط کا کوئی واقعہ حضور کو سناتے اور دعا کے لئے بھی درخواست کرتے۔آپ جب کوئی مضمون لکھتے تو وہ بہت لمبا ہو جاتا اور اس میں تکرار بھی ہو جاتی تھی۔ایک دفعہ مجھے بلایا اور ایک مضمون دیا کہ حضرت صاحب نے قرآن کریم کے متعلق کسی کے کچھ اعتراض مجھے جواب کے لئے بھجوائے ہیں۔میں نے جوابات لکھے ہیں مگر یہ مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے۔اور میری تحریر میں تکرار بہت ہوتا ہے تم اس مضمون کو پڑھ کر مختصر مضمون کی صورت میں کر دو۔چنانچہ میں نے اور برادرم مولوی عبدالغفور صاحب فاضل نے اس سارے مضمون کو پڑھا اور پھر اس کو مختصر طور پر لکھا مگر جرات نہ پڑتی تھی کہ وہ مضمون آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ڈر یہ لگتا تھا کہ اگر مولوی صاحب کو مضمون پسند نہ آیا تو آپ ہمیشہ فرمایا کریں گے کہ بعض طالب علم اپنے استادوں کی غلطیاں نکالتے ہیں۔ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔جب آپ نے وہ مضمون مجھ سے سنا تو مجھے بہت پیار کیا اور فرمایا۔میاں بس میں یہی چاہتا تھا تم نے بالکل میری مرضی کے مطابق مضمون کر دیا ہے۔۱۳- از اخویم مولوی بشیر احمد صاحب ( مبلغ وامیر جماعت کلکته ) آج سے ستائیس سال قبل ۱۹۳۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب اعجاز احمدی“ میرے مطالعہ میں آئی اور اس میں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا ذکر خیر پڑھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عر بی نظم میں فرماتے ہیں :۔فكان ثناء الله مقبول قومه ومنـا تــصــدي لـلـتـخــاصــم ســرور كان مقام البحـث كـان كــاجـمة به الذئب يعوى و الغضنفر يزء ر * ۱۹۰۲ ء میں موضع مد کے مناظرہ میں غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب پیش ہوئے اور احمدیوں کی طرف سے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے اسی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور مندرجہ بالا اشعار میں فرماتے ہیں کہ ثناء اللہ غیر احمدیوں کی طرف سے پیش ہوئے جو اپنی قوم میں مقبول تھے اور ہماری اعجاز احمدی - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵۲