اصحاب احمد (جلد 5) — Page 367
آپ کا حافظہ بلا کا تھا بہت بچپن اور زمانہ طالب علمی کی باتیں آپ کو تفصیلات کے ساتھ یاد تھیں۔اپنے شاگردوں کے ساتھ آپ بہت شفقت فرماتے۔اگر کبھی کسی سے ناراضگی سے پیش آتے جو شاذونادر ہی ہوتا تھا تو بعد میں اس کی دلداری بھی فرماتے۔بہت عبادت گزار تھے۔اور قیام اللیل میں تو میرا مشاہدہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا تو میں تو حضرت مولوی صاحب کو جب بھی میری آنکھ کھلتی نماز میں مشغول پاتا۔آپ اپنے مکان کی چھت پر نماز پڑھ رہے ہوتے۔جو محن بورڈ نگ مدرسہ احمدیہ کے ساتھ ملحق تھا اور یہ حال سارا رمضان کا مہینہ ہوتا تھا۔حضرت مولوی صاحب صرف جامعہ احمدیہ یا مدرسہ احمدیہ کے وقت میں ہی تعلیم میں مشغول نہیں رہتے تھے۔بلکہ اکثر اپنے مکان پر بھی کلاس کو وقت دیتے تھے اور اس میں خوشی محسوس فرماتے تھے۔دینی علوم میں آپ بڑے متبحر عالم تھے مگر علم منطق اور فلسفہ میں تو آپ کا ثانی ملنا بہت مشکل تھا۔آپ کو منطق اور فلسفہ کی بڑی سے بڑی کتاب پڑھانے میں مطالعہ کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔سب کتابیں آپ کو ازبر تھیں۔آپ کا ہر شاگرد یہ سمجھتا تھا کہ حضرت مولوی صاحب کا میرے ساتھ سب سے زیادہ تعلق ہے۔خود میں یہ سمجھتا تھا کہ حضرت مولوی صاحب میرے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں اور واقع میں مجھ سے بہت شفقت فرماتے ہیں۔میں جب جامعہ احمدیہ میں مبلغین کلاس میں تعلیم پاتا تھا تو مبلغین کلاس کا سیکرٹری بھی تھا۔تمام اجلاس اور کلاس کے انتظامی امور مجھے سرانجام دینے ہوتے تھے۔حضرت مولوی صاحب محترم سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مفتی تھے۔مجھے فرمانے لگے کہ استفتاء باہر سے آتے ہیں وہ تمام طلباء میں تقسیم کر دیا کرو۔اور وہ طالب علم مجھ سے مل لیا کریں۔میں ان کو بتا دیا کروں گا کہ فلاں فلاں کتاب سے یہ فتویٰ دیکھ کر لکھ کر لاؤ۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا رہا۔اور بعض دفعہ حضرت مولوی صاحب کسی خاص فتوے کے بارے میں مجھے ارشاد فرماتے کہ یہ تم خود فلاں کتاب کے فلاں مقام سے دیکھ کر اور تسلی کر کے لکھ کر لانا۔چنانچہ طلباء فتوے لکھ کر لاتے اور آپ اسی میں کچھ ترمیم فرماتے یا اگر ٹھیک ہوتا تو اسی صورت میں اس فتویٰ پوچھنے والوں کو بھجوا دیتے فرمایا کرتے تھے کہ میں یہ اس لئے کرتا ہوں تا نو جوانوں کو رغبت پیدا ہو اوران میں تحقیقات کا مادہ بڑھے۔آپ یہ شکایت فرمایا کرتے تھے کہ میرے شاگرد جب باہر تبلیغ کے لئے جاتے ہیں تو مجھے خط نہیں لکھتے۔میں نے زمانہ طالب علمی میں ہی یہ دل سے عہد کیا ہوا تھا کہ جب میں باہر تبلیغ کے لئے جاؤں گا تو حضرت مولوی صاحب کو باقاعدگی سے خط لکھا کروں گا۔چنانچہ جب مجھے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے برما میں تبلیغ کے لئے بھجوایا تو میں باقاعدگی سے آپ کی خدمت میں خط لکھتا تھا۔جب میں جلسہ سالانہ