اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 361 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 361

۳۶۶ ان کے کردار اور علمی رفعت کو اگر چہ سمجھ نہ سکتا تھا مگر اس ضمن میں اکثر سنتا ضرور تھا اس بعد و دوری کے باوجود بھی چند باتیں ان کے اور میرے درمیان وقوع پذیر ہوگئیں جو بظاہر معمولی باتیں ہیں مگر کون کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اصحاب کی باتیں معمولی ہوتی ہیں۔میرے سامنے یا ہمارے سامنے یا آپ کے سامنے حضرت شاہ صاحب با وجود ایک جید عالم۔فقہیہ اور مفکر ہونے کے ایک متقی اور نیک انسان ہونے کے صرف ”سید سرور شاہ صاحب سے زیادہ کچھ نہیں۔با ایں ہمہ ہر ایک صحابی اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے الگ کر کے دیکھا جائے کسی صحابی کی تصویر کشی کے لئے جن رنگوں کی ضرورت ہوگی یا جو رنگ استعمال ہو سکتا ہے تو وہ رنگ صرف اور صرف حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رنگ ہے۔صحابہ کرام کا حسن و جمال در حقیقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نورانی جمال کا پر تو اور عکس ہے۔پس اصحاب احمد کے مقام رفیع اور درجات روحانی کو بلند کرنے اور جامۂ قدسی میں ان کو ملبوس کرنے کے لئے ہمیں سب سے اول اور سب سے آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان قدسی۔پاکیزگی۔روحانیت اور بزرگی کے سامنے دست سوال دراز کرنا ہوگا۔کیونکہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پاک اور بابرکت وجود کو اساس نہ سمجھا جاوے اور مقدم نہ رکھا جاوے تو وہ جنہیں ہم صحابہ کرام کہتے ہیں ان کا کردار ذاتی کردار ہے ان کا علمی تبحران کے لئے شخصی تفاخر کا باعث ہوسکتا ہے مگر یہ امتیاز یہ تفاخر یقینا فانی اور نابود ہو جانے والا ہوگا۔کوئی مقام رفیع پیدا نہ کر سکے گا مگر یہاں صورت دیگر ہے۔اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی خاص بندے کو اپنی مخلوق کی بہبودی کے لئے ایک خاص اور بلند مقام پر کھڑا کرتا ہے تو بندہ بظاہر یکہ و تنہا ہوتا ہے مگر پس پردہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد کی افواج ہوتی ہیں۔مجھے اعتراف ہے کہ میں اصل موضوع سے ہٹ رہا ہوں۔اور طوالت اختیار کر رہا ہوں۔مگر میں اپنی کمزور قلم کو کیسے روکوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کے بغیر چلنا نہیں چاہتی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام و فر مایا تھا کہ انی انار بک اور یہ اس وقت فرمایا تھا جب آپ مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔مسیح پاک نے تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ یقین کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ کی فوجیں آپ کے ساتھ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اس کے نزدیک اپنے اعمال کے باعث انعامات کے مستحق تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ہی ان کو القاء فرمایا۔کہ یہ ہے وہ میرا انعام جو میں نے تمہارے لئے پسند کیا اور مخصوص رکھا۔پس یہ لوگ مسیح دوراں کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ تزکره صفحه ۹۳ طبع ۲۰۰۴ء